فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے جمعرات کو دوبارہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ میں حصہ لے گا اور اپنے میچ امریکہ میں ہی کھیلے گا، جیسا کہ پہلے سے طے شدہ تھا۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 7:06 PM IST | New York
فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے جمعرات کو دوبارہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ میں حصہ لے گا اور اپنے میچ امریکہ میں ہی کھیلے گا، جیسا کہ پہلے سے طے شدہ تھا۔
فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے جمعرات کو دوبارہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ میں حصہ لے گا اور اپنے میچ امریکہ میں ہی کھیلے گا، جیسا کہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ انفینٹینو نے ان خیالات کا اظہار وینکوور کنونشن سینٹر میں منعقدہ۷۶؍ ویں فیفا کانگریس کے دوران کیا۔ اس کانگریس میں دنیا بھر سے فٹ بال حکام ٹورنامنٹ کے انتظامات، قوانین میں تبدیلیوں اور آنے والے ایونٹ کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:فیڈرر، ندال اور سنر کی کامیابی کی برابری کر کے زیوریو سیمی فائنل میں
حالیہ علاقائی کشیدگی کے درمیان ایران کی شرکت کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں پر بات کرتے ہوئے انفینٹینو نے کہاکہ ’’میں براہِ راست یہ تصدیق کرتے ہوئے اپنی بات شروع کرنا چاہوں گا کہ، بلاشبہ، ایران ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ میں حصہ لے گا۔ اور یقینی طور پر، ایران اپنے میچ امریکہ میں ہی کھیلے گا۔‘‘
یہ تصدیق اس وقت سامنے آئی ہے جب ایرانی حکام نے پہلے یہ تجویز دی تھی کہ ان کے گروپ اسٹیج کے میچوں کو امریکہ سے منتقل کر کے میکسیکو میں کر دیا جائے؛ تاہم فیفا نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ امریکی سرکاری حکام نے بھی حال ہی میں ایرانی ٹیم کے حوالے سے خوش آئند رویے کا اظہار کیا ہے۔ یہ کانگریس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب وینکوور، ۴۸؍ ٹیموں پر مشتمل پہلے ورلڈ کپ کے میزبان شہروں میں سے ایک کے طور پر اپنی تیاریاں مکمل کر رہا ہے۔ اس ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو ۱۱؍ جون سے ۱۹؍ جولائی تک کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:فرح خان، سونو سود سمیت دیگر فلمی شخصیات راہل رائے کی حمایت میں سامنے آئے
ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی بڑی کارروائی
ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے ماسکو لیباریٹری کے ڈیٹا کی بنیاد پر کی جانے والی تحقیقات کی کامیاب تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے متعدد روسی کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کی تصدیق کر دی ہے۔ واڈا کے مطابق ’آپریشن لِمز‘ کے تحت جاری تحقیقات کے نتیجے میں ۲۹۱؍ روسی کھلاڑیوں کو سزائیں سنائی گئیں جبکہ مجموعی طور پر ۳۰۲؍ پابندیاں عائد کی گئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۲۲؍ مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹس کو ۲۳؍ اینٹی ڈوپنگ تنظیموں نے سزا دی، جن میں ویٹ لفٹنگ اور ایتھلیٹکس کے کھلاڑی سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ مزید برآں۱۱؍ کھلاڑیوں کو ایک سے زائد خلاف ورزیوں پر سزا دی گئی جبکہ چار کیسز تاحال زیر سماعت ہیں۔واڈا کے صدر وٹولڈ بانکا نے اس کارروائی کو تاریخ کی کامیاب ترین تحقیقات قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ۲۰۱۵ء میں روس میں ریاستی سرپرستی میں ڈوپنگ پروگرام کا انکشاف ہوا تھا، جس کے بعد روسی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کو معطل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ۲۰۱۸ء میں سخت شرائط کے تحت اس کی بحالی عمل میں آئی، جس کے نتیجے میں ۲۰۱۹ء میں ماسکو لیباریٹری سے اہم ڈیٹا حاصل ہوا۔ اسی ڈیٹا میں رد و بدل ثابت ہونے پر روس پر چار سالہ پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔