Inquilab Logo Happiest Places to Work

تفریح کی دنیا میں انفلوئنسرز کا کریئر طویل مدتی نہیں ہے: رابرٹ ڈاؤنی جونیئر

Updated: May 08, 2026, 8:09 PM IST | Los Angeles

رابرٹ ڈاؤنی جونیئر نے سوشل میڈیا انفلوئنسر کلچر پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ انفلوئنسرز مستقبل میں اداکاروں اور موسیقاروں کی جگہ لے سکیں گے۔Conversations for our Daughters پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کل لوگ صرف فون کیمرہ آن کر کے بھی مشہور ہو جاتے ہیں، لیکن حقیقی فن، تعلیم اور تخلیقی صلاحیت کی اہمیت اب بھی باقی ہے۔

Robert Downey Jr. Photo: INN
رابرٹ ڈاؤنی جونیئر۔ تصویر: آئی این این

رابرٹ ڈاؤنی جونیئر نے حالیہ انٹرویو میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور جدید تفریحی کلچر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ نہیں مانتے کہ انفلوئنسرز مستقبل میں روایتی اداکاروں، موسیقاروں یا دیگر بڑے فنکاروں کی جگہ لے سکیں گے۔ Conversations for our Daughters نامی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اداکار نے کہا کہ آج کے دور میں شہرت حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق، لوگ اب صرف اپنے فون کا کیمرہ استعمال کرتے ہوئے اور مختصر ویڈیوز بنا کر بھی مشہور شخصیت بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج کل لوگ صرف فون آن کر کے بھی مشہور ہو جاتے ہیں۔ میں اسے مکمل طور پر منفی چیز نہیں سمجھتا، لیکن اس سے انفرادیت کے چیلنج میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’مرزا پور دی فلم‘‘ کے بعدعلی فضل کو ایک اور ایکشن پروجیکٹ ملا

رابرٹ ڈاؤنی جونیئر نے امید ظاہر کی کہ نوجوان نسل صرف وائرل ہونے یا سوشل میڈیا شہرت کے پیچھے نہیں بھاگے گی بلکہ حقیقی علم، مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کی طرف بھی توجہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ اب بھی ایسا ہے جو کچھ نیا سیکھنا، تخلیق کرنا اور اپنی تعلیم پر توجہ دینا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق یہی چیز اصل فنکاروں اور محض وقتی شہرت حاصل کرنے والوں میں فرق پیدا کرتی ہے۔ اداکار نے انفلوئنسر کلچر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’جب لوگ کہتے ہیں کہ مستقبل کے بڑے ستارے صرف انفلوئنسرز ہوں گے تو مجھے لگتا ہے کہ یہ مکمل بکواس ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ انفلوئنسر کلچر میں بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے لوگ صرف توجہ حاصل کرنے یا اثر ڈالنے کے لیے مواد بنا رہے ہوں۔

تاہم، رابرٹ ڈاؤنی جونیئر نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ تمام انفلوئنسرز کو منفی نظر سے نہیں دیکھتے۔ ان کے مطابق، انہوں نے اپنی فلموں کی تشہیر کے دوران کئی ایسے انفلوئنسرز سے ملاقات کی ہے جو نہایت محنتی، ذہین اور زمین سے جڑے ہوئے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس نئے دور کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے کیونکہ تفریح اور میڈیا کی دنیا مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق، ’’ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں، اس لیے ہر چیز کو فوراً جج کرنا درست نہیں ہوگا۔‘‘ اداکار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر وہ کسی مسئلے پر رائے قائم کرتے ہیں تو وہ تحقیق اور سوچ بچار کے بعد کرتے ہیں، نہ کہ صرف ہجوم کی پیروی میں۔

یہ بھی پڑھئے: انجلینا جولی کو بریڈ پٹ کے خلاف چیٹو میراول کیس میں بڑی عدالتی کامیابی

واضح رہے کہ رابرٹ ڈاؤنی جونیئر اس وقت اپنی آنے والی مارول فلم ’’اوینجرز: ڈومسڈے‘‘ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جس میں وہ مشہور ولن وکٹر وون ڈوم، یعنی ڈاکٹر ڈوم کے کردار میں نظر آئیں گے۔ یہ فلم مارول کے سب سے بڑے پروجیکٹس میں شمار کی جا رہی ہے اور ۱۸؍ دسمبر ۲۰۲۶ء کو ریلیز ہوگی۔ فلم اور انٹرویو دونوں کی وجہ سے رابرٹ ڈاؤنی جونیئرایک بار پھر عالمی تفریحی صنعت میں توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK