Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: خاتون فوجیوں کو مرد فوجیوں کی برابری کیلئے دوگنا خوراک اور زیادہ نیند کی ہدایت

Updated: July 11, 2026, 4:01 PM IST | London

برطانیہ میں خاتون فوجیوں کو مرد فوجیوں کی برابر ی کیلئے دوگنا خوراک اور زیادہ نیند لینے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ وہ سخت فوجی کرداروں کو نبھانے کے قابل ہو سکیں،اس اقدام کا مقصد ایلیٹ رجمنٹس میں خواتین فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ کی وزارت دفاع نے خواتین فوجیوں کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں جس میں انہیں مرد فوجیوں کی برابر ی کیلئے دوگنا خوراک اور زیادہ نیند لینے کو کہا گیا ہے  تاکہ وہ سخت فوجی کرداروں کو نبھانے کے قابل ہو سکیں۔ اس اقدام کا مقصد ایلیٹ رجمنٹس میں خواتین فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ چند سال قبل قواعد میں تبدیلی کی گئی تھی جس کے تحت خواتین کو مردوں کی طرح تمام یونٹ بشمول پیرا شوٹ رجمنٹ اور رائل میرین کے لیے درخواست دینے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ تاہم، ڈیلی میل کے مطابق، صرف اعلیٰ درجے کی کھیلوں کے پس منظر رکھنے والی خواتین ہی عملی میدان میں کامیاب ہو پائی ہیں۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے دفاعی سربراہان نے نئی غذائی اور نیند سے متعلق ہدایات ترتیب دی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناٹو لیڈروں کو اردگان کا انوکھا تحفہ، نام کندہ والی ریوالور اور زندہ کارتوس دیئے

بعد ازاں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خواتین کو روزانہ۳۵۰۰؍ کیلوریز تک استعمال کرنی ہوں گی، جو گزشتہ ہدایت سے تقریباً دوگنا ہے۔ اس میں پٹھوں کی نشوونما کے لیے روزانہ ۳۰؍ گرام اعلیٰ معیار کا پروٹین شامل ہے۔ نیز انہیں آئرن اور وٹامن ڈی کی مقدار بڑھانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ مزید برآں انہیں زیادہ نیند لینے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے، کیونکہ ماہرین کے مطابق جو خواتین فوجی چھ گھنٹے سے کم سوتی ہیں، وہ ماہواری کے دورانیے میں خلل کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ اوسطاً چھ گھنٹے سونے والی خواتین میں بیمار ہونے کا خطرہ چار گنا زیادہ ہوتا ہے، اور سات گھنٹے سونے والی خواتین کے مقابلے میں چوٹ لگنے کا خطرہ دو گنا سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تارکین وطن اور امدادی کارکنوں کو نفرت اور غلط معلومات سے خطرہ:اقوام متحدہ

قابلِ ذکر ہے کہ ریکارڈز بتاتے ہیں کہ ہارمونل عدم توازن بھی خواتین فوجیوں کو درپیش ایک اور مسئلہ ہے۔ ہر چار میں سے ایک خاتون کو ماہواری بےقاعدہ یا غائب ہونے کا سامنا ہے، اور ہر دو میں سے ایک خاتون اس وجہ سے شدید بہاؤ کی شکایت کرتی ہے، جو ان کی میدانِ پرکارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ وزارت دفاع نے یہ بھی کہا کہ وہ خواتین کی مدد کے لیے ان کے لیے زیادہ موزوں سازوسامان فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔وزیر برائے سابق فوجی اور عوامی امور، کیلون بیلی ایم پی نے کہا، ’’جنگی تیاری کا انحصار ہمارے تمام اہلکاروں کی شمولیت، طاقت، لچک اور تیاری پر ہے۔ میں اپنی ذاتی تجربے  سے جانتا ہوں کہ خواتین نے ہمیشہ سخت ترین معیارات پورے کیے ہیںمگر اکثر انہیں مطلوبہ معاونت کے بغیر یہ کرنا پڑا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK