• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کو منانے کے بجائے ہندوستان کی توجہ چین پر

Updated: January 10, 2026, 2:17 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi

تجارتی معاہدہ کی امیدیں معدوم ہونے کے بعد مودی حکومت سرکاری ٹھیکوں میں چینی کمپنیوں کیلئے عائد پابندیاں ہٹانے پر غور کررہی ہے۔

Prime Minister Modi visited China after a long time in September 2025, during which talks were held on improving trade relations. Picture: INN
وزیراعظم مودی نے طویل عرصہ بعدستمبر ۲۰۲۵ء میں چین کا دورہ کیاتھا جس میں تجارتی تعلقات میں بہتری پر بات چیت ہوئی تھی۔ تصویر: آئی این این
ایسے وقت میں  جب امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کی امیدیں  معدوم ہوتی جارہی ہیں ، نئی دہلی چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو اُستوار اور زیادہ بہتر کرنے کی کوشش کرسکتاہے۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستان  کی وزارتِ خزانہ ۵؍سال پرانی ان پابندیوں کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جو چینی کمپنیوں کو سرکاری ٹھیکوں میں بولی لگانے سے روکتی تھیں۔  خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘ کو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بیجنگ کے ساتھ سرحدی کشیدگی میں کمی کے ماحول میں نئی دہلی اس کے ساتھ تجارتی تعلقات بحال کرنا چاہتی ہے۔
یہ پابندیاں۲۰۲۰ء میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان ایک ہلاکت خیز جھڑپ کے بعد عائد کی گئی تھیں ۔ان پابندیوں کے تحت   ہندوستان میں سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے کیلئے چینی کمپنیوں کو ہندوستان کی سرکاری کمیٹی میں رجسٹریشن کرانا اور سیاسی و سیکوریٹی منظوری حاصل کرنا ضروریتھا۔ان اقدامات کی وجہ سےچینی کمپنیوں کیلئے ہندوستان میں سرکاری ٹھیکوں کیلئے جن کی مجموعی مالیت کا اندازاً۷۰۰؍ ارب سے۷۵۰؍ ارب ڈالر کے درمیان  ہے،بولی  لگانے   کےمواقع فی الحقیقت مسدود ہوگئے تھے۔  پابندیوں کے اعلان کے چند ماہ بعد ہی چین کی سرکاری کمپنی سی آر آر سی ۲۱۶؍ ملین ڈالر کے ٹرین سازی کے ٹھیکے  میں  بولی  لگانے کیلئے  نااہل قرار پائی تھی۔پابندیوں میں نرمی کے منصوبے کی خبر سب سے پہلے ’رائٹرس‘ نے  حکومت میں موجود اپنے کم از کم ۲؍ ذرائع کے حوالے سےدی ہے۔ ان میں سے ایک نے بتایا کہ حکام رجسٹریشن کی شرط ختم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ دونوں ذرائع جنہوں نے عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہ ہونے کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، نے بتایا کہ حتمی فیصلہ  وزیر اعظم نریندر مودی کا دفتر یعنی پی ایم او کرے گا۔ تاہم  حکومت کی جانب  سے اس ضمن میں  خاموشی اختیار کی جارہی ہے۔ ’رائٹرس‘ نے  وزارتِ خزانہ اور وزیر اعظم کے دفتر نے  اس ضمن میں  موقف جاننے کی کوشش کی مگر کوئی جواب نہیں دیاگیا۔ 
ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کی جانب سے پابندیاں نرم کرنے کا منصوبہ دیگر سرکاری محکموں کی درخواستوں پر بنایا ہے۔ مذکورہ محکموں   کو ۲۰۲۰ء کی پابندیوں کے باعث پرجیکٹ میں  تاخیر اور قلت کا سامنا ہے۔ مختلف وزارتوں کی سفارش پر  ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی  جس کی سربراہی سابق کابینہ سکریٹری راجیو گوبا کر رہے ہیں، نے  پابندیاں نرم کرنے کی سفارش کی ہے۔ گوبا  مودی سرکار کے ایک اہم تھنک ٹینک کے رکن ہیں۔
آبزرور رِیسرچ فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد چینی کمپنیوں کو ملنےوالے ٹھیکوں کی ۲۷؍ فیصد گھٹ گئی جو سال بھر قبل ۲۰۲۱ء میں ۱ء۶۷؍ بلین ڈالر تھی۔  خاص طور سے بجلی کے شعبہ کیلئے چین سے آلات کی درآمد پر پابندیوں نے   اس منصوبے کو متاثر کیا ہے جس کے تحت آئندہ ایک دہائی میں تھرمل پاور کی صلاحیت کو تقریباً۳۰۷؍ گیگاواٹ تک بڑھانا ہے۔ چینی کمپنیوں پر عائد کی گئی پابندیاں ہٹانے کی خبر عام ہوتے ہی بھارت ہیوی الیکٹریکلس کے حصص ۱۰ء۵؍  فیصد اور لارسن اینڈ ٹوبرو کے ۳ء۱؍ فیصدگر گئےکیوں کہ انہیں چینی کمپنیوں  سے شدید مقابلہ آرائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK