Inquilab Logo

نیٹ امتحان میں مبینہ پیپر لیک معاملے کے خلاف احتجاج میں شدت، سی بی آئی کی تفتیش میں بھی تیزی

Updated: June 25, 2024, 11:42 AM IST | Agency | New Delhi

گجرات کنکشن بھی سامنے آیا، سی بی آئی کی ٹیم گودھرا پہنچی،کانگریس کی طلبہ تنظیم’این ایس یو آئی‘ کے ساتھ ہی بی جے پی کی طلبہ تنظیم ’اے بی وی پی‘ بھی میدان میں، نیٹ امتحان کو دوبارہ کرانے کا مطالبہ۔

NSUI students protesting at Jantarmantar in Delhi. Photo: INN
دہلی میں جنترمنتر پر این ایس یو آئی کے طلبہ احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر : آئی این این

 نیٹ امتحان سے متعلق پیپر لیک کا معاملہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اس معاملے میں جہاں ملک گیر احتجاج ہورہے ہیں، وہیں کانگریس کی طلبہ تنظیم ’نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا‘ (این ایس یو آئی) کے اراکین نے دوبارہ امتحان کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی کے ساتھ اس مبینہ پیپر لیک کے تار اب گجرات سے جڑگئے ہیں جس کی جانچ کیلئے سی بی آئی کی ایک ٹیم گجرات پہنچی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیٹ معاملے میں بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی بھی احتجاج کررہی ہے جبکہ امتحان کے نگراں ادارے (این ٹی اے) کا سربراہ اے بی وی پی سے وابستہ رہ چکا ہے۔ 
  اس معاملے میں ملک گیر طلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے طلبہ تنظیم ’این ایس یو آئی‘ نے پیر کو دہلی میں جنترمنتر پر زبردست مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں طلبہ اور این ایس یو آئی کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ طلبہ نے ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نیٹ امتحان کو منسوخ کرنے، دوبارہ امتحان کرانے اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ این ایس یو آئی کے سربراہ ورون چودھری نے سوال کیا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی ایسی کیا مجبوری ہے جو نیٹ امتحان دوبارہ نہیں کرا رہے؟ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سی بی آئی ۲۔ ۳؍ دنوں میں اپنی جانچ مکمل کرے تاکہ نیٹ کا یہ امتحان دوبارہ ہونے کا راستہ ہموار ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ امتحان نہیں کرایا گیا تو این ایس یو آئی ملک بھر میں احتجاج کرے گی، جس کا آغازوزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے ادیشہ واقع گھر سے ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’جب میرے ساتھ بدسلوکی ہورہی تھی، تب آپ نے مجھے پناہ دی تھی‘‘

دریں اثنا اس معاملے میں جانچ کو آگے بڑھاتے ہوئے سی بی آئی کی ایک ٹیم گجرات کے پنچ محل ضلع کے گودھرا شہر پہنچی۔ اس طرح پیپر لیک معاملے کا کنکشن اب گجرات سے بھی جڑ گیا ہے۔ بہار اور مہاراشٹر کے بعد گجرات تیسری ایسی ریاست ہے جس کے تار پیپر لیک معاملے سے جڑے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں ہی ریاستوں میں این ڈی اے کی حکومتیں ہیں۔ خیال رہے کہ گودھرا پولیس نے ۸؍ مئی کو ہی مجرمانہ سازش اور فریب دہی سمیت تعزیرات ہند کے مختلف دفعات کے تحت ایک معاملہ درج کیا تھا۔ اس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ۲۷؍ امیدواروں سے۱۰۔ ۱۰؍ لاکھ روپے لے کر نیٹ امتحان پاس کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پنچ محل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ہمانشو سولنکی نے اس تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کی ایک ٹیم گودھرا پہنچی اور مقامی پولیس حکام سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تحقیقات کیلئے ان سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ واضح رہے کہ طلبہ کے ملک گیر احتجاج اور سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے دعوؤں کی تحقیقات کے درمیان، ایک دن قبل سی بی آئی نے نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا تھا۔ 
اضافی مارکس پانے والے۱۵۶۳؍ طلبہ میں سے صرف ۸۱۳؍ طلبہ ہی دوبارہ امتحان میں شریک ہوئے
سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نےاتوار کو ۱۵۶۳؍ امیدواروں کا دوبارہ امتحان لیا جنہیں پہلے امتحان کا وقت ضائع ہونے پر اضافی نمبر (گریس مارکس) دیئے گئے تھے۔ ان۱۵۶۳؍ امیدواروں میں سے صرف۸۱۳؍ طلبہ (تقریباً۵۲؍ فیصد) ہی دوبارہ امتحان میں شریک ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دیگر امیدواروں نے اضافی مارکس نکال دینے کے بعد جو مارکس بچے، ان پر اکتفا کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چنڈی گڑھ کے ایک مرکز پر ۲؍ طلبہ کو امتحان میں شریک ہونا تھا۔ ان کیلئے باقاعدہ ایک سینٹر بنایا گیا تھا لیکن ان دونوں میں سے کوئی بھی امتحان دینے نہیں آیا۔ اسی طرح چھتیس گڑھ کے کل۶۰۲؍ طلبہ میں سے۲۹۱؍ طالب علم شریک ہوئے۔ دوبارہ ہونےوالےاس امتحان میں گجرات سے صرف ایک طالب علم شریک ہوا۔ اس کے علاوہ ہریانہ کے ۴۹۴؍ طلبہ میں سے ۲۸۷؍ اور میگھالیہ کے۲۳۴؍ طلبہ دوبارہ امتحان میں شامل ہوئے۔ 
 قابل ذکر ہے کہ اس سال نیٹ یو جی امتحان میں ۲۳؍ لاکھ۳۳؍ ہزار طلبہ نے حصہ لیا تھا جبکہ۲۰۲۳ء میں یہ تعداد تقریباً۲۰؍ لاکھ تھی۔ امسال ۵؍ مئی کو ہونےوالے امتحان میں ۴۵۰۰؍ سے زیادہ امتحانی مراکز میں ان طلبہ نے شرکت کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق جو طلبہ اتوار کو امتحان میں شریک ہوئے انہیں نظر ثانی شدہ نمبرجاری کئے جائیں گے تاہم، جن طلبہ نے دوبارہ امتحان نہیں دیا ہے انہیں اب اُن کا پرانا نمبر (گریس نمبر کو ہٹاکر) دیا جائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK