Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسام میں پولیس کی تفتیش کے بعد بین مذاہب اراضی کی منتقلی ہوگی

Updated: August 30, 2025, 12:50 PM IST | Agency | Guwahati

آسام کی ہیمنت بسوا شرما حکومت کی ریاستی کابینہ نے’معیاری آپریٹنگ طریق کار‘ کو منظوری دی۔

Assam Chief Minister Hemant Biswa Sharma. Photo: INN
آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما۔ تصویر: آئی این این

آسام کی کابینہ نے گزشتہ روز اسٹینڈرآپریٹنگ پروڈیوسرز(معیاری آپریٹنگ طریق کار -ایس او پیز ) کو منظوری دے دی ہے، جس میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان  اراضی کی منتقلی کیلئے  پولیس کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلہ کا اعلان وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے کیا، جسے ناقدین نے ریاستی کابینہ کے ذریعہ اس فیصلہ کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ بسوا شرما نے کہا-’’آج ریاستی کابینہ نے بین مذہبی اراضی کی منتقلی کیلئے  ایس او پی کو منظوری دے دی ہے۔ آسام جیسی حساس ریاست میںدو مذہبی گروپوں کے درمیان زمین کی منتقلی کو بہت احتیاط سے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی تمام منتقلی کی تجاویز اب ریاستی حکومت کے پاس آئیں گی، جو ہماری اسپیشل ونگ (پولیس) کے ذریعے ہر ایک کی تحقیقات کرے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:بی جے پی بوکھلاگئی ، کانگریس کے دفتر پر حملہ

ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ ونگ زمین کی خریداری کے لیے مختص فنڈز کے ذرائع کا جائزہ لے گا،کیا یہ (خریدار کے) ٹیکس گوشواروں میں ظاہر ہوتا ہے،کیا اس خریداری سے علاقے کے سماجی تانے بانے پر اثر پڑے گا، کیا مقامی باشندوں کی جانب سے فروخت کی مخالفت ہے یا نہیں (اور کیا اس طرح کے خدشات کو دور کیا گیا ہے)، اور کیا کچھ معاملات میں اس فروخت سے قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سرما نے کہا’’اس طرح کے تمام معاملات کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور اسکے بعد ہم اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو مطلع کریں گے کہ آیا انہیں زمین کی منتقلی کی اجازت دینی چاہیے یا نہیں، اور اسی کے مطابق حتمی فیصلہ ڈپٹی کمشنر کریں گے۔‘‘سرما نے مزید کہا کہ یہی عمل آسام سے باہر کی این جی اوز پر لاگو ہوگا جو ریاست میں تعلیمی یا صحت کے ادارے وغیرہ قائم کرنے کے لیے زمین حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سرما نے کہا-’’اس طرح کی تمام تجاویز کا قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد ہی زمین کی فروخت کی اجازت دی جائے گی۔ تاہم، مقامی این جی اوز جو اپنی خدمات کیلئے مشہور ہیں، کو ایسے کسی طریق کار پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔‘‘انہوں نے کہا کہ کیرالہ کی کئی این جی اوز نے سری بھومی اور بارپیٹا جیسے اضلاع میں زمین خریدی ہے یا بارک ویلی (کچھار، ہیلاکانڈی اور سری بھومی) کے اضلاع میں ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے این جی اوز کے نام ظاہر نہیں کئے۔شرما نے کہا-’’کیرالہ میں بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں، جن کا تعلق ایک ’خاص مذہب‘ سے ہے، پہلے ہی بڑے پیمانے پر زمین خرید چکے ہیں یا ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایسی خریداریوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ بہت سے لوگوں نے نوٹیفکیشن کو ’’ غیر آئینی‘‘ قرار دیا۔آسام میں کانگریس کے ترجمان امان ودود نے، جس نے اس اقدام کو’غیر آئینی‘ قرار دیا، چیف منسٹر سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کوئی ڈیٹا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بین مذہبی اراضی کی فروخت سماجی تانے بانے اور قومی سلامتی کو متاثر کر رہی ہے۔ اس خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ماہر تعلیم میتھری پی نے سوشل میڈیا پر لکھا- ’’بہترین نسل کشی‘‘۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK