Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریپیڈو، اولا اور اوبر کے بائیک ٹیکسی کے عبوری لائسنس منسوخ

Updated: March 10, 2026, 10:01 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

بڑی تعداد میں غیرقانونی موٹرسائیکل ٹیکسی چلانے اور دیگر شرائط پوری نہ کرنے کی وجہ سے حکومت کافیصلہ ۔ ڈرائیورں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ہدایت جاری۔

The Government Has Taken Strict Steps To Ensure That Bike Taxi Services Continue As Per The Rules. Photo:INN
بائیک ٹیکسی خدمات کوقواعد کے مطابق جاری رکھنے کیلئےحکومت نے سخت اقدامات کئے ہیں۔ تصویر:آئی این این
وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے قانون ساز کونسل میں ایک سوال کے جواب میں اطلاع دی کہ جن ۳؍ کمپنیوں کو بائیک ٹیکسی چلانے کا عبوری لائسنس دیا گیا تھا، ان سب کے لائسنس منسوخ کردیئے گئے ہیں۔ اس کارروائی کی وجہ بڑی تعداد میں غیرقانونی طور پر بائیک ٹیکسی  سروس اور دیگر شرائط کی عدم تعمیل بتائی گئی ہے۔
 
 
رکن کونسل سنیل شندے کی جانب سے پیر کو قانون ساز کونسل میں قاعدہ ۹۳؍ کے تحت اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے بتایا کہ جن کمپنیوں کو بائیک ٹیکسی چلانے کا عارضی لائسنس دیا گیا تھا، اسے منسوخ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف پولیس میں کیس بھی درج کروائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق بائیک ٹیکسی چلانے کیلئے چند باتوں کو لازمی قرار دیا گیا ہے جن میں یہ باتیں شامل ہیں کہ صرف ۱۰۰؍ فیصد ’الیکٹرک بائیک‘ ہی ٹیکسی کے طور پر چلائی جاسکتی ہے۔ جس موٹر سائیکل کو ای بائیک کے طور پر استعمال کرنا ہے، اس کا ٹرانسپورٹ گاڑی کے طور پر رجسٹریشن کروانا اور اس کی نمبر پلیٹ کا پیلے رنگ کا ہونا لازمی ہے۔ موٹر سائیکل چلانے والے کے علاوہ پیچھے صرف ایک شخص کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی اور دونوں افراد کو ہیلمٹ پہننا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر کئی شرائط ہیں جنہیں پورا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے مہاراشٹر میں ’ای بائیک‘،دو پہیہ گاڑیوں  کو بطور ٹیکسی استعمال کرنے کیلئے ’موٹر وہیکل ایگریگیٹر گائیڈ لائنس ۲۰۲۰ء‘ کے تحت ایک علاحدہ پالیسی تیار کی ہے۔ اس پالیسی کی بنیاد پر ریاستی کابینہ نے ۷؍ اگست ۲۰۲۴ء کو ریاست میں ایک لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں میں ’ای بائیک ‘ خدمات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اسی مناسبت سے ’مہاراشٹر ای- بائیک-ٹیکسی رُولز ۲۰۲۴ء‘ کی تشکیل عمل میں آئی اور مختلف شرائط کو پورا کرنے والی کمپنیوںکو ’ای بائیک‘ خدمات انجام دینے کیلئے لائسنس دینے کا اعلان کیا گیا۔حکومت نے ابتدائی طور پر بالترتیب اولا، اوبر اور ریپیڈو چلانے والی ۳؍ بڑی کمپنیوں میسرز اے این آئی ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز اوبر انڈیا سسٹمز پرائیوٹ لمیٹڈ اور میسرز روپین ٹرانسپورٹیشن سروسیز پرائیویٹ لمیٹڈ کو عبوری لائسنس جاری کیا تھا۔ اس عارضی لائسنس کی بنیاد پر انہیں بائیک ٹیکسی   خدمات شروع کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ وہ ۳۰؍ دنوں میں ضروری شرائط پوری کرکے حتمی لائسنس حاصل کرنے کیلئے حکومت سے رجوع ہوں گی۔ 
 
 
کونسل کو بتایا گیا کہ عارضی لائسنس جاری کرنے کے بعد اس  بات کاتجربہ ہوا کہ کمپنیوں نے ضروری شرائط کو پورا کئے بغیر غیرقانونی طور پر ای بائیک خدمات شروع کردی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر بائیک ٹیکسی حادثات کا شکار ہوئیں جن میں مسافر کی موت بھی ہوئی اور دو ایک معاملات میں خواتین مسافروں کے تحفظ کے تعلق سے بھی شکایتیں موصول ہوئیں۔ ان تمام واقعات کے تعلق سے متعلقہ کمپنیوں کو نوٹس جاری کئے گئے تھے اور چند معاملات میں پولیس میں شکایت بھی درج کروائی گئی تھی۔
محکمہ ٹرانسپورٹ نے پوری ریاست کے علاقائی اور ذیلی ٹرانسپورٹ محکموں کو غیرقانونی بائیک ٹیکسیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ای بائیک کے دستاویز کی جانچ کرکے جرمانہ عائد کرنے کی کارروائی شروع کی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ اپریل ۲۰۲۴ء سے اب تک ۱۳۰؍ بائیک ٹیکسیوں کے خلاف کارروائی کرکے ۳۳؍ لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا جاچکا ہے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قواعد کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گااس لئے ریاستی حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات کئے ہیں کہ بائیک ٹیکسی خدمات قواعد کے مطابق اور محفوظ طریقے سے جاری رہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK