• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹی ای ٹی پیپر لیک کی تحقیقات مکمل، ۳؍ہزار ۴۷۲؍ صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل

Updated: September 19, 2026, 10:59 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

مہاراشٹر ٹیچر اہلیتی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) پیپر لیک معاملے میں بھیونڈی پولیس نے تحقیقات مکمل کرتے ہوئے ۳؍ ہزار ۴۷۲؍ صفحات پر مشتمل چارج شیٹ فاسٹ ٹریک عدالت میں داخل کردی۔

Bajendra Gupta (third from right), the alleged mastermind of the paper leak case, with DCP Dr. Pawan Bansod and other investigating officers. Photo: INN
پیپر لیک معاملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ بجیندر گپتا(دائیں سے تیسرا)، ڈی سی پی ڈاکٹر پون بنسوڈ اور دیگر تحقیقاتی افسران کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر ٹیچر اہلیتی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) پیپر لیک معاملے میں بھیونڈی پولیس نے تحقیقات مکمل کرتے ہوئے  ۳؍ ہزار ۴۷۲؍ صفحات پر مشتمل چارج شیٹ فاسٹ ٹریک عدالت میں داخل کردی۔ پولیس نے یہ کارروائی معاملہ سامنے آنے کے صرف ۸۲؍ دن کے اندر مکمل کی ہے۔ چارج شیٹ میں گرفتار ۱۶؍ ملزمین کے خلاف سی سی ٹی وی فوٹیج، کال ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد پیش کئے گئے ہیں جبکہ معاملے کے مزید ۲؍ ملزمین ابھی فرار ہیں۔

ڈی سی پی ڈاکٹر پون بنسوڈ کے مطابق بہار کے رہنے والے بجیندر گپتا کو پولیس نے پیپر لیک کیس کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔ پولیس کی تحقیقات کے مطابق اسی نے پیپر لیک کرنے کی سازش تیار کی اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے آگرہ کی مہیم پترم پرنٹنگ پریس سے ٹی ای ٹی کا اصل سوالیہ پرچہ باہر نکلوایا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ پرنٹنگ پریس کے گرفتار ملازمین کی مدد سے سوالیہ پرچہ باہر لایا گیا اور بعد میں اسے فروخت کرنے کی کوشش کی گئی۔

اصل پرچہ گپتا کے قبضے سے ملنے کا دعویٰ 

تحقیقاتی افسر اے سی پی وجے مراٹھے کے مطابق ۲۷؍ جون کو کون گاؤں میں کارروائی کے دوران گرفتار ملزمین کے پاس سے ٹی ای ٹی سوالیہ پرچوں کے ۴؍ سیٹ برآمد ہوئے تھے۔ بعد میں تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ اصل سوالیہ پرچے کی زیراکس نقول تھیں جبکہ پولیس کے مطابق بجیندر گپتا کے قبضے سے اصل سوالیہ پرچہ بھی برآمد کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اصل پرچے کی برآمدگی، سی سی ٹی وی فوٹیج، کال ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کو یکجا کرنے کے بعد گپتا کو معاملے کا اہم سازشی قرار دیا گیا ہے۔

۵۵؍گواہوں کے بیانات شامل

۳؍ ہزار ۴۷۲؍ صفحات کی چارج شیٹ میں مجموعی طور پر ۵۵؍ گواہوں کے بیانات شامل کئے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق شواہد سے ملزمین کے درمیان رابطوں اور پیپر لیک نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی کڑیاں جوڑی گئی ہیں۔۲؍ ملزمین اب بھی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ ان میں ایک بیڑ اور دوسرا دہلی کا رہنے والا بتایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق بیڑ کے ملزم پر لیک شدہ پرچہ آگے فروخت کرنے میں کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔

۲۷؍ جون کو بھیونڈی سے کھلا تھا پیپر لیک کا راز

۲۸؍جون کو منعقد ٹی ای ٹی امتحان ہونا تھا، لیکن اس سے ایک روز قبل ۲۷؍جون کو کون گاؤں میں پولیس کو سوالیہ پرچہ فروخت کئے جانے کی اطلاع ملی تھی۔ کارروائی کے دوران ۳؍ افراد کو گرفتار کرکے ۴؍ سوالیہ پرچے برآمد کئے گئے۔ تعلیمی حکام سے تصدیق کے بعد پرچوں کے اصل امتحانی سوالیہ پرچوں سے متعلق ہونے کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد ۲۸؍ جون کا ٹی ای ٹی امتحان ملتوی کر دیا گیا تھا۔ معاملے کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی، جس نے مہاراشٹر کے علاوہ بہار، دہلی، ہریانہ اور اترپردیش میں بھی کارروائی کی۔ جولائی میں بجیندر گپتا اور اس کے ساتھی اندر جیت سنگھ کو بہار سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اب تک اس معاملے میں ۱۶؍ گرفتاریاں ہوچکی ہیں۔پولیس کے مطابق کچھ رپورٹس کا انتظار ہے اور فرار ملزمین کی گرفتاری کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی صورت میں سپلیمنٹری چارج شیٹ بھی داخل کی جائے گی۔ گرفتار تمام ۱۶؍ ملزمین فی الحال عدالتی حراست میں ہیں اور معاملے کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK