بیلٹ پیپر واپس لانے کی مانگ کی، متنبہ کیا کہ اگر بات نہ مانی گئی تو۱۰؍ اکتوبر کو احتجاج کیا جائےگا، محمود پراچہ نے مظاہرین کی قیادت کی۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 11:42 AM IST | Agency | New Delhi
بیلٹ پیپر واپس لانے کی مانگ کی، متنبہ کیا کہ اگر بات نہ مانی گئی تو۱۰؍ اکتوبر کو احتجاج کیا جائےگا، محمود پراچہ نے مظاہرین کی قیادت کی۔
سپریم کورٹ کے وکیل محمود پراچہ کی قیادت میں وکلا کے ایک گروپ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے دفتر پر پہنچ کر احتجاج کیاا وربیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران ایک گروپ نے الیکشن کمیشن کے دفتر میں پہنچ کر ذمہ داران کو میمورنڈم پیش کیا جبکہ محمود پراچہ نے دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے میڈیا سے گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن ای وی ایم ہٹانے اور آئندہ انتخابات بیلٹ پیپر سے کرانے کا اعلان کر دے تو۱۰؍ اکتوبر کو ہونے والا احتجاج واپس لے لیا جائے گا۔ ان کے مطابق ان کی کسی فرد سے ذاتی پرخاش نہیں بلکہ مطالبہ پورا ہونے کی صورت میں تحریک ختم کر دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین کےالیکشن میں اے بی وی پی پر دھاندلی کا الزام، آج نتیجہ
انہوں نے کہا کہ ای وی ایم کے معاملے پر پہلے بھی کئی مرتبہ بات چیت ہو چکی ہے لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف وضاحتیں دی گئی ہیں۔ پراچہ نے چیلنج کیا کہ الیکشن کمیشن کے افسران، انجینئرس اور تکنیکی ماہرین عوام کے سامنے کھلی بحث میں حصہ لیں تاکہ ای وی ایم سے متعلق سوالات کا فیصلہ کیا جا سکے۔پراچہ نے کہا کہ جمہوریت میں احتجاج کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں، لیکن مقصد ایک ہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی عمل میں ای وی ایم کے علاوہ بھی کئی طرح کی بے ضابطگیاں ہورہی ہیں، جن میں جھوٹے انتخابی وعدے اور ووٹروں کو پیسے کا لالچ دینا شامل ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر اور دیگر امور پر بھی آواز اٹھانے کا اشارہ دیا ہے۔