این ایس یو آئی اور بائیں اتحاد نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا، کشیدگی کے پیش نظر ہائی کورٹ نے جلوس فتح پر روک لگادی، پولیس پر بھگواطلبہ تنظیم کی تائید کا الزام۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 11:38 AM IST | Agency | New Delhi
این ایس یو آئی اور بائیں اتحاد نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا، کشیدگی کے پیش نظر ہائی کورٹ نے جلوس فتح پر روک لگادی، پولیس پر بھگواطلبہ تنظیم کی تائید کا الزام۔
دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈوسو) کے انتخابات کیلئے جمعہ ۱۸؍ستمبر کو انتہائی کشیدہ ماحول میں پولنگ ہوئی ۔اسٹوڈنٹ یونین کے صدر، نائب صدر، سیکریٹری اورجوائنٹ کے عہدہ کیلئے بی جےپی اور آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی، کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی اور بائیں محاذ کے اتحاد (آئیسا -ایف ایس آئی) کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ ووٹوں کی گنتی سنیچر ۱۹؍ ستمبر کو ہوگی۔ اے بی وی پی نے صدر کے عہدے کیلئے یش ڈباس کو امیدوار بنایا ہے جبکہ این ایس یو آئی کی جانب سے وجے شنکر مینا میدان میں ہیں۔ آئیسا اور ایف ایس آئی کے اتحاد نے بھی اپنے امیدوار اتارے ہیں۔ یش ڈباس قومی سطح کے ٹینس کھلاڑی رہ چکے ہیں جبکہ وجے شنکر مینا راجستھان سے تعلق رکھنے والے آدیواسی طالب علم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:افریقہ کی تقسیم کا عمل تیز، مستقبل میں بن سکتا ہے نیا سمندر
اس مرتبہ انتخابی مہم میں سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ریلز اور پوسٹروں کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوا۔ انتخابی مہم کے دوران تشدد اور انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزیوں پر بھی تنازع رہا اور زیادہ تر اے بی وی پی پر اس کا الزام عائد ہوتا رہاہے۔دہلی ہائی کورٹ نے بھی یونیورسٹی اور پولیس کو انتخابی ضابطوں پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت دی۔ عدالت حالات کو دیکھتے ہوئے جلوس فتح پر روک لگادی ہے۔ عدالت نے ہدایات جاری کی ہیں اور متنبہ کیا ہے کہ خلاف ورزی پر ووٹوں کی گنتی یا نتائج کے اعلان کو روکنے کے احکامات دیئے جا سکتے ہیں۔