منصفانہ اطلاق پر شبہ کااظہار، کہا گیا: یہ اُن فلموں کیلئے ہیں جنہیں عوام تک پہنچنے سے روکنا ہے۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 11:46 AM IST | Agency | New Delhi
منصفانہ اطلاق پر شبہ کااظہار، کہا گیا: یہ اُن فلموں کیلئے ہیں جنہیں عوام تک پہنچنے سے روکنا ہے۔
مرکزی فلم سرٹیفکیشن بورڈ کی تشکیل نو کےبعد مرکزی حکومت نے اس کیلئے جو رہنما خطوط جاری کئے ہیںاس نے ایک بار پھر سوشل میڈیاپر بحث چھیڑ دی ہے کہ مذکورہ بورڈ سرٹیفکیشن بورڈ ہے یا سینسر بورڈ؟ نئے ضوابط میں ’’اینٹی نیشنل‘‘ رجحان پیدا ہونے مشمولات کو روکنے کی بات کہی گئی ہے تاہم ناقدین نے ضوابط کے منصفانہ اطلاق پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان ہی فلموں پر عائد ہوں گے جن کے بارے میں حکومت نہیں چاہتی کہ انہیں عوام دیکھیں۔
یہ بھی پڑھئے:وزیراعظم کی سالگرہ کی تقریبات پر شاہ خرچی کا الزام، شدید تنقیدیں
رہنما خطوط کے مطابق فلم سازوں کو ہندوستانی سنیما میں فلموں کی نمائش کیلئےسرٹیفکیٹ حاصل کرتے وقت تشدد، منشیات اور سگریٹ نوشی کی تشہیر سے گریز کرنا ہوگا۔ جنسی تشدد کو بھی واضح اور تفصیلی انداز میں پیش نہیں کیا جاسکے گا۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے جو نئے رہنما خطوط جاری کئے ہیں ان میں تخلیقی آزادی، سماجی تبدیلی، عمر کے لحاظ سے درجہ بندی اور مواد سے متعلق پابندیوں کی زبان میں تبدیلی کی گئی ہے۔وزارت نے سنسر بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ فلم کا جائزہ الگ الگ مناظر کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے مجموعی تاثرکو سامنے رکھ لیا جائے۔ فلم کو اس دور اور معاشرے کے تناظر میں بھی پرکھا جائے گا جس میں کہانی پیش کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے ضوابط سےسماجی اور سیاسی موضوعات پر بننے والی فلموں کی سنسرشپ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ای وی ایم کے خلاف وکلاء کی ٹیم الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچی، میمورنڈم دیا
رہنما خطوط کے چند اہم نکات: تخلیقی آزادی کے ساتھ سماجی اقدار کا خیال رکھا جائے۔ تشدد، جرائم اور خوفناک مناظر کی تشہیر یا غیرضروری تفصیل سے بچا جائے۔ بچوں کو تشدد، زیادتی یا جرائم میں ملوث دکھانے سے گریز کیا جائے۔ جانوروں پر ظلم اور معذور افراد کی تضحیک ممنوع ہوگی۔ شراب، منشیات اور سگریٹ نوشی کی تشہیر پر پابندی۔ خواتین کی تضحیک اور جنسی تشدد کی عکاسی سے گریز۔ فحاشی اور دوہرے معنی والے جملوں پر پابندی فرقہ واریت، اور ’ملک مخالف‘ رویوں کی تشہیر ممنوع ہوگی۔