’’آشیرواد کا دیا‘‘ پر کانگریس نے آڑے ہاتھوں لیا،کہا: غریبوں کے گھروں میں کھانا پکانے کو تیل نہیں اور مودی کی سالگرہ کے نام پر کروڑوں دیئے جلائے جا رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 11:34 AM IST | Inquilab News Network | Luckhnow
’’آشیرواد کا دیا‘‘ پر کانگریس نے آڑے ہاتھوں لیا،کہا: غریبوں کے گھروں میں کھانا پکانے کو تیل نہیں اور مودی کی سالگرہ کے نام پر کروڑوں دیئے جلائے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم کی سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں ’’آشیرواد کا دیا‘‘ کے عنوا سے کروڑوں دیئے جلانے پر عوامی اور سیاسی دونوں سطحوں پر شدید تنقیدیں ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف بی جےپی صدر نتن نبین سمیت بی جےپی کے تمام لیڈروں نے اس کا دفاع کیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ’’آشیرواد کا دیا‘‘ پروگرام پر خرچ عوامی خزانہ سے کیا جارہاہے جبکہ ملک میں غریبوں کے گھروں میں کھانا پکانے کو تیل نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ضلع کلکٹر سطح کے افسران نے بھی اس پروگرام میں حصہ لیا ۔ ان کی تصویریں اور ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کئے گئے ہیں۔
سالگرہ کی تقریب پر سرکاری خرچ
اترپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اور سابق وزیر اجے رائے نے وزیراعظم نریندر مودی کی سالگرہ کی تقریبات اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر جمعہ کو اترپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دفتر میں پریس کانفرنس کی۔انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم کی سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں دیئے جلائے گئے اور سرکاری رقم خرچ کی گئی جبکہ غریبوں کے پاس کھانا پکانے کے لئے تیل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:وینس کیفے نے خاتون سے بیک گراؤنڈ میوزک کے۸۰۰؍ روپے وصول کیے
اجے رائے نے کہاکہ ایک طرف گاؤں کے گاؤں سیلاب کی زد میں آکر کٹ گئے ہیں اور لوگوں کو کھانے، پانی اور دوا کی ضرورت ہے، دوسری طرف سالگرہ کی تقریبات پر خرچ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے یوپی سے گجرات مارچ کیلئے بنارس میں ۵۰۰؍ موٹر سائیکلیں دیئے جانے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ مارچ میں موٹر سائیکل چلانے والوں کو روزانہ ۷۰۰؍ روپے دینے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔کانگریس صدر نے ملک بھر میں کروڑوں دیئے جلائے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک دیئے پر کم از کم پانچ روپے بھی خرچ ہوئے ہوں تو مجموعی رقم بہت زیادہ بنتی ہے۔
’’بچے بجھے ہوئے دیئے کا تیل جمع کررہے ہیں‘‘
انہوں نے ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کچھ بچے جلائے گئے دیوں سے بچا ہوا تیل جمع کر رہے تھے تاکہ اسے کھانا پکانے کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر غریب خاندانوں کے پاس کھانا پکانے کیلئے تیل نہیں ہے تو یوں دیئے جلا کر سرکاری پیسہ ضائع کرنے کے بجائے ضرورت مندوں کے گھروں میں روشنی اور بنیادی سہولتیں پہنچانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔
اجے رائے نے مدھیہ پردیش میں زہریلی شراب سے مبینہ اموات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں طویل عرصے سے بی جے پی کی حکومت ہے، اس لئے حکومت کو ایسے واقعات پر توجہ دینی چاہیے۔کانگریس صدر نے یو پی آئی ادائیگی کے حوالے سے بھی مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھئے:وزیراعظم مودی نے سیمی کون انڈیا کا افتتاح کیا
’’چراغ بجھ گئے، بی جےپی جشن منارہی ہے‘‘
اس سے قبل سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ پر بی جے پی کی جانب سے ’آشیرواد کا دیا‘ جلانے پر طنز کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سیلاب سے غریبوں کے گھر اجڑ گئے ہیں اور لوگ مشکلات میں ہیں، جبکہ دوسری طرف بی جے پی جشن منا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سیلاب متاثرین تک فوری طور پر کھانا، پانی، دوائیں اور دیگر ضروری امدادی سامان پہنچائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جب لوگوں کے گھر پانی میں ڈوب گئے ہوں تو بھلا کوئی دیا کیسے جلائے۔ یادو نے کہا کہ عوام، غریبوں، محروموں اور سیلاب متاثرین کی پریشانیوں پر توجہ دینے کے بجائے جشن منانا افسوس ناک ہے۔انہوں نےکہا کہ لوگوں کے گھروں میں چراغ بجھ رہے ہیں اور بی جےپی جشن منارہی ہے۔
چھتیس گڑھ میں ڈیڑھ کروڑ دیئے
وزیر اعظم نریندر مودی کی ۷۶؍ ویں سالگرہ اور عوامی زندگی کے۲۵؍ سال مکمل ہونے کے موقع پر چھتیس گڑھ میں منعقدہ ’آشیرواد کا دیا‘ پروگرام نے گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈز میں جگہ بنالی ہے۔ وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے کی قیادت میں منعقدہ اس پروگرام کے تحت ریاست بھر میں ایک کروڑ۵۰؍لاکھ سے زائد دیئے روشن کیے گئے۔ رائے پور میں ہونے والے مرکزی پروگرام میں۲۵؍لاکھ سے زیادہ دیے جلائے گئے۔ ریاستی وزیر خزانہ او پی چودھری نے اسے عوام کی وسیع شمولیت اور اجتماعی عزم کی علامت قرار دیا۔ پروگرام میں مختلف اضلاع کے شہریوں، عوامی نمائندوں، سماجی تنظیموں اور دیگر طبقات نے شرکت کی۔
طلبہ پر بھی تقریب میں شرکت کا دباؤ
راجستھان میں طلبہ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریبات میں شرکت کی ہدایت دینے کے معاملے نے تنازع پیدا کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست کے تعلیمی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مودی کی سالگرہ کی تقریبات میں طلبہ کی شرکت یقینی بنائیں۔ اس ہدایت پر تعلیمی حلقوں اور اپوزیشن نے اعتراض کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طلبہ کو سیاسی تقریبات میں شامل کرنا تعلیمی اداروں کی غیرجانبداری کے خلاف ہے۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ الزام ہے کہ راجستھان ہی نہیں ملک بھر طلبہ کو اس طرح کی سرگرمیوں میں زبردستی شامل کیا جارہاہے۔