کمیشن کے چیئرمین سرینواسن مرلی دھر کےمطابق کمیشن کو دونوں علاقوں میں تمام ذمہ دار فریق کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات کی تحقیقات کرنی ہوں گی۔
تحقیقاتی کمیشن کے چیئرمین سرینواسن مرلی دھر۔ تصویر: آئی این این
امریکہ کے صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لئے بین الاقوامی امن بورڈ کے منصوبے کا اعلان ہونے کے بعد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تحت کام کرنے والے غیرجانبدار ماہرین نے کہا ہے کہ وہ حماس اسرائیل جنگ میں حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات جاری رکھیں گے۔کونسل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم اور اسرائیل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے چیئرمین سرینواسن مرلی دھر نے کہا ہے کہ امن بورڈ ایک ایسے منصوبے کے تحت قائم کیا گیا ہے جسے سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا، اس پر رائے شماری ہوئی اور اسے منظور کیا گیا۔ تحقیقاتی کمیشن کا کام انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات کی تحقیقات کرنا ہے اور اسے یہ ذمہ داری اقوام متحدہ نے سونپی ہے۔یہ کمیشن انسانی حقوق کونسل کے اہم ترین تحقیقاتی اداروں میں سے ایک ہے جسے مئی۲۰۲۱ء میں کونسل کے۴۷؍ رکن ممالک نے قائم کیا تھا۔
گزشتہ سال نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد۲۸۰۳؍ منظور کی تھی جس میں غزہ کی تعمیرنو کی نگرانی کے لئے امن بورڈ کا عبوری انتظامیہ کی حیثیت سے خیرمقدم کیا گیا۔
گزشتہ سال ستمبر میں کمیشن کی اس وقت چیئرپرسن اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی سابق سربراہ نوی پلائی نے کہا تھا کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملوں اور شہریوں کو قتل اور اغوا کئے جانے کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے جبکہ اسرائیل نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا۔مرلی دھر نے کہا ہے کہ کمیشن کو دونوں علاقوں میں تمام ذمہ دار فریق کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات کی تحقیقات کرنی ہوں گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمیشن کی سابقہ تحقیقات کسی عدالت کے زیرغور بھی آئیں گی تاکہ دونوں علاقوں کے عوام کو پائیدار انصاف مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امسال کمیشن کے ایجنڈے میں فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے کئے گئے حملوں کی تحقیقات بھی شامل ہوں گی۔
امن بورڈ سے متعلق سوالات کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ توقع رکھتے ہیں امن منصوبے میں فلسطینی علاقوں کے تمام افراد کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے آزاد ماہرین نے وسطی غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں ۳؍ فلسطینی صحافیوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔