• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے یو اسمال فنانس بینک میں ممکنہ ڈیٹا لیک کی تحقیقات شروع، صارفین کی معلومات غیرمحفوظ

Updated: October 30, 2026, 10:04 PM IST | Mumbai

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک ہیکر گروپ نے بینک کے نظام میں مبینہ طور پر سائبر حملہ کرکے صارفین کی حساس معلومات اور بینک کے اندرونی کارپوریٹ ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔

Au Small Finance Bank .Photo:INN
اے یو اسمال فائنانس بینک ۔ آئی این این

ہندوستان کے نجی شعبے کے معروف مالیاتی ادارے اے یو اسمال فنانس بینک نے ممکنہ ڈیٹا لیک کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک ہیکر گروپ نے بینک کے نظام میں مبینہ طور پر سائبر حملہ کرکے صارفین کی حساس معلومات اور بینک کے اندرونی کارپوریٹ ڈیٹا تک رسائی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ بینک نے جمعہ کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس ممکنہ ڈیٹا لیک کی جانچ کررہا ہے، جس کا تعلق سیلز فورس   کے زیر انتظام اور میزبانی میں چلنے والے سافٹ ویئر ایز اے سروس (SaaS) پلیٹ فارم سے ہوسکتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم بنیادی طور پر گاڑیوں کے قرض یعنی وہیکل لون لینے والے صارفین سے متعلق محدود معلومات محفوظ رکھتا ہے۔اے یو اسمال فنانس بینک نے واضح کیا ہے کہ اس ممکنہ سائبر واقعہ سے بینک کے بنیادی بینکنگ نظام متاثر نہیں ہوئے ہیں اور صارفین کے لیے تمام بینکنگ خدمات معمول کے مطابق جاری ہیں۔ بینک کے مطابق جس پلیٹ فارم کی تحقیقات کی جارہی ہیں، اس میں صرف گاڑیوں کے قرض سے متعلق صارفین کی محدود معلومات موجود ہوسکتی ہیں۔ بینک نے صارفین کو یقین دلایا ہے کہ اس کے اپنے بنیادی نظام محفوظ ہیں اور واقعہ کی مکمل جانچ کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز سے پرسدھ کرشنا باہر

میڈیا رپورٹس کے مطابق ’اسکارلیٹ گروپ‘ (Scarlet Group) نامی ہیکر گروپ نے اے یو اسمال فنانس بینک کے نظام میں مبینہ سائبر دراندازی کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے بینک کے صارفین کی معلومات اور اندرونی کارپوریٹ ڈیٹا تک رسائی   کی ہے۔ تاہم ہیکر گروپ کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے اور بینک کی جانب سے بھی ڈیٹا لیک کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر لیک ہونے والی معلومات میں صارفین کے کے وائی سی (KYC) ریکارڈ، ذاتی شناختی دستاویزات، پین کارڈ اور آدھار کی تفصیلات، کریڈٹ رپورٹس، بینک اسٹیٹمنٹ، قرض کی درخواستیں، دستخط شدہ معاہدے اور انشورنس ریکارڈ شامل ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ  ڈیٹا، ملازمین کی معلومات، لاگ اِن ہسٹری اور آڈٹ لاگز تک رسائی حاصل کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ اگر ان معلومات کے لیک ہونے کی تصدیق ہوتی ہے تو صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات کے غلط استعمال، شناخت کی چوری اور آن لائن مالی دھوکہ دہی جیسے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم فی الحال یہ تمام تفصیلات ہیکر گروپ اور میڈیا رپورٹس کے دعوؤں پر مبنی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار اور بھومی پیڈنیکر پریادرشن کی نئی کامیڈی فلم میں دوبارہ ایک ساتھ نظر آئیں گے

ممکنہ ڈیٹا لیک کی خبر سامنے آنے کے بعد اے یو اسمال فنانس بینک کے حصص پر بھی دباؤ دیکھا گیا۔ جمعہ کو بمبئی اسٹاک ایکسچینج   میں بینک کا شیئر تقریباً ۲؍ فیصد گر کر۴۵ء۸۶۰؍  روپے پر کاروبار کرتا دکھائی دیا۔ اسٹاک ایکسچینج کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ۵۲؍ ہفتوں کے دوران بینک کے حصص کی بلند ترین سطح۶۵ء۱۱۴۴؍ روپے اور کم ترین سطح ۸۳۲؍ روپے رہی ہے۔
 قابلِ ذکر ہے کہ اسی ماہ ملک کے سب سے بڑے سرکاری بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا  سے متعلق بھی ڈیٹا بریک کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس واقعے میں  ۳۸۹۷؍صارفین کے ریکارڈ ڈارک ویب پر موجود پائے جانے کی اطلاع ملی تھی۔ اس وقت بینک کو اپنے تھریٹ انٹیلی جنس سروس فراہم کرنے والے ادارے، ڈیفنس سائبر ایجنسی اور انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم  کی جانب سے ممکنہ ڈیٹا افشا ہونے کے بارے میں الرٹ موصول ہوئے تھے۔ اے یو اسمال فنانس بینک کا تازہ معاملہ ایک بار پھر ہندوستان کے مالیاتی شعبے میں سائبر سیکوریٹی، صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور تھرڈ پارٹی ڈجیٹل پلیٹ فارمز کی سلامتی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب بینکنگ اور قرض کی خدمات تیزی سے ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہورہی ہیں، صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات کو محفوظ رکھنا مالیاتی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK