ملک میں تیزی سے فروغ پاتے ہوا بازی کے شعبے اور حکومت کی توسیعی پالیسیوں کے باعث ۲۰۲۹ء تک ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے (ایئرپورٹ انفراسٹرکچر) پر تقریباً۲ء۴؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 7:05 PM IST | New Delhi
ملک میں تیزی سے فروغ پاتے ہوا بازی کے شعبے اور حکومت کی توسیعی پالیسیوں کے باعث ۲۰۲۹ء تک ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے (ایئرپورٹ انفراسٹرکچر) پر تقریباً۲ء۴؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ملک میں تیزی سے فروغ پاتے ہوا بازی کے شعبے اور حکومت کی توسیعی پالیسیوں کے باعث ۲۰۲۹ء تک ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے (ایئرپورٹ انفراسٹرکچر) پر تقریباً۲ء۴؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
برک ورک ریٹنگس کی پیر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء تک اعلان شدہ یا زیر تعمیر منصوبوں کی مجموعی مالیت ۷ء۳؍ لاکھ کروڑ روپے ہے، جب کہ ۲۰۲۹ء تک مکمل ہونے والے اضافی منصوبوں کی مالیت تقریباً ۵ء۰؍ لاکھ کروڑ روپے ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء میں اس شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ جاتی سرمایہ کاری (کیپٹل انویسٹمنٹ) ہوئی اور موجودہ مالی سال میں بھی یہی رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بغیر اسٹار کھلاڑی کے برازیل کو مات دینے کا جاپانی مشن
برک ورک ریٹنگس کے سینئر ڈائریکٹر (ریٹنگس) نیرج راٹھی نے کہا کہ مضبوط گھریلو طلب کے باعث ہوائی مسافروں کی تعداد میں ۸؍ سے ۱۰؍ فیصد اضافے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق نوی ممبئی اور جیور جیسے نئے ہوائی اڈے اور ٹیئر-۲؍ شہروں کی ترقی اس اضافے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے دوران فضائی حدود پر عائد پابندیوں کے سبب ہندوستانی ہوا بازی کے شعبے کی بین الاقوامی پروازوں کے ٹریفک میں تقریباً ۴۰؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں مالی سال کی پہلی ششماہی میں طلب نسبتاً کمزور رہنے کا امکان ہے، تاہم دوسری ششماہی میں تیزی سے بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’آوارہ پن ۲‘‘کا ٹیزر جاری: عمران ہاشمی کے زبردست مکالمے نے سب کو دنگ کر دیا
راٹھی نے مزید کہا کہ ایئرپورٹ انفراسٹرکچر سیکٹر کی کریڈٹ آؤٹ لک مستحکم ہے۔ اگرچہ ہوائی اڈوں کے ٹرمینلز کی توسیع پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث قلیل مدت میں نقدی کے بہاؤ پر کچھ دباؤ رہے گا، تاہم مسافروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد اس شعبے کو محفوظ اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔