ایران کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں گزشتہ روز انقلاب ایران کی ۴۷؍ویں سالگرہ جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر ریلیوں کے شرکاء نے ہاتھوں میں ایران کے قومی پرچم، انقلاب کے بانی امام خمینی ؒ ،رہبر انقلاب کی تصاویر اور شہداء کی یادگار تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
انقلاب ِ اسلامی کی سالگرہ کے جشن میں ایرانی شہریوں نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ تصویر:آئی این این
ایران کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں گزشتہ روز انقلاب ایران کی ۴۷؍ویں سالگرہ جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر ریلیوں کے شرکاء نے ہاتھوں میں ایران کے قومی پرچم، انقلاب کے بانی امام خمینی ؒ ،رہبر انقلاب کی تصاویر اور شہداء کی یادگار تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ شرکاء نے نعرے لگا کر واضح کیا کہ ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے ایرانی قوم پہلے بھی میدان میں موجود رہی اور اب بھی یورے عزم اور حوصلے کے ساتھ موجود ہے اور آج ایک بار پھر انقلابِ اسلامی کے بنیادی مقاصد کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو نسل کشی کہنے پرامریکی مذہبی آزادی کمیشن کی کمشنر پر چوطرفہ تنقیدیں
ریلی کے دوران شرکاء نے عالمی استکباری قوتوں کے خلاف نعرے لگائے، جن میں امریکہ مردہ باد اوراسرائیل مردہ باد کے نعرے نمایاں تھے۔ انہوں نے اسلامی جمہوری نظام کی حمایت اور قیادت کے ساتھ اپنی وفاداری کا بھی اظہار کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بھرپور موجودگی کے ذریعے رہبر انقلاب کے پیغام پر لبیک کہتے ہوئے دشمن کو واضح طور پر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ایرانی قوم کو دباؤ یا دھمکیوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھئے:اداکارہ سری لیلا نے ایم بی بی ایس مکمل کیا، تقسیم اسناد کی تقریب کا ویڈیو وائرل
تہران کی عظیم الشان تاریحی ریلی میں صدر ایران مسعود پزشکیان، اسپیکر باقرقالیباف،عدلیہ کے سربراہ اور وزیر خارجہ سمیت اہم سیاسی و قومی شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر منعقدہ ریلی کے دوران میزائلوں کی نمائش کی گئی، جسے تل ابیب کے لئے ایک واضح اور مضبوط پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ ریلی کے موقع پر قاسم سلیمانی، فتح اور فتاح ایک سو دس نامی میزائل عوام کے سامنے رکھے گئے، جو ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور عسکری خود کفالت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس نمائش کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ ایران اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔