Inquilab Logo Happiest Places to Work

”ذہنی طور پر کمزور“ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کیلئے ایران نےاپنی ٹیم میں ماہرین نفسیات کو شامل کیا: رپورٹ

Updated: June 16, 2026, 10:05 PM IST | Tehran

ایک سینئر ایرانی اہلکار نے بتایا کہ اپریل میں اسلام آباد مذاکرات کے بعد، ایران نے جوہری مذاکرات کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے رویے کا تجزیہ کرنے اور اسے کنٹرول کرنے کیلئے اپنے مذاکراتی مشاورتی حلقے میں دو سینئر ماہرینِ نفسیات کو شامل کیا ہے۔

Donald Trump. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

رپورٹس کے مطابق، اسلامی ملک نے اپریل میں اسلام آباد مذاکرات کے بعد اپنے مذاکراتی مشاورتی حلقے میں خاموشی سے دو سینئر ماہرینِ نفسیات کو شامل کیا ہے تاکہ جوہری مذاکرات کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے رویے کا تجزیہ کیا جا سکے اور اسے کنٹرول کیا جا سکے۔ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب دونوں فریقین نے ممکنہ یادداشت مفاہمت (MoU) کیلئے مجوزہ شرائط کا تبادلہ شروع کیا تھا۔ ایرانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’ڈراپ سائٹ نیوز‘ کو بتایا کہ ”ہم نے مذاکرات کے مشاورتی حلقے میں دو سینئر ماہرینِ نفسیات کو شامل کیا ہے تاکہ ہم صدر ٹرمپ کیلئے بھیجے جانے والے پیغامات کو اس انداز میں ترتیب دے سکیں جس سے ان کے اس طرزِ عمل کو سنبھالا جا سکے جسے ہم سائیکوپیتھک سلوک سمجھتے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: ’’میں جل چکا ہوتا‘‘: امریکی شہری کا اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کا چشم دید بیان

حکام کے مطابق، اس حکمتِ عملی کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کی شمولیت کے بعد، مبینہ طور پر مذاکراتی عمل کے دوران ٹرمپ کے رویے میں بہتری دیکھی گئی۔ ایرانی حکام ثالثوں کے ذریعے ٹرمپ کیلئے پیغامات کو انتہائی احتیاط سے تیار کر رہے ہیں۔ ایک اہلکار نے بياں دیا، ”چونکہ تبادلہ کئے جانے والے یہ متون (ٹیکسٹس) بالآخر تاریخی ریکارڈ کا حصہ بنیں گے، اس لیے ہم اپنے مذاکرات کو اس انداز میں چلا رہے ہیں جو یہ یقینی بنائے کہ اگر آنے والے سالوں میں یہ خط و کتابت پبلک کی جائے، تو ہر فریق کی مذاکراتی تکنیک کا نسبتی وزن اور مہارت واضح طور پر نظر آئے۔“

اس اسٹوری پر کام کرنے والے تحقیقاتی رپورٹر جیرمی سکاہل (Jeremy Scahill) نے بتایا کہ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ ٹرمپ ”دماغی طور پر کمزور“ ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ایرانی حکام نے یہ بات ٹرمپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کیلئے نہیں اٹھائی بلکہ انہوں نے اس نفسیاتی نقطۂ نظر کے ذریعے ”تقریباً طبی بنیادوں پر نتائج دیکھنا شروع کر دیئے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ جنگ بندی معاہدے کا دنیا بھر میں خیر مقدم

واضح رہے کہ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے اپریل میں مذاکراتی دور کے دوران بار بار دھمکی دی ہے کہ وہ ایران پر بمباری کرکے ایرانی تہذیب کو دوبارہ ”پتھر کے دور“ میں دھکیل دیں گے۔ حال ہی میں، ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے احترام کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان سے ملاقات کی ہے۔ دوسری جانب، ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ کا ایک معمول کا طبی معائنہ (میڈیکل چیک اپ) ہوا جس میں ۲۲ ماہرین نے شرکت کی۔ یہ تاریخ میں کسی بھی امریکی صدر کیلئے سب سے بڑی میڈیکل ٹیم تھی، جو ٹرمپ کے اپنے پہلے دورِ حکومت سے بھی زیادہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK