Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں جل چکا ہوتا‘‘: امریکی شہری کا اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کا چشم دید بیان

Updated: June 16, 2026, 7:14 PM IST | Ramallah

راملہ کے مشرق میں واقع فلسطینی قصبہ دیر دبوان، جہاں تقریباً۷۰؍ فیصد باشندے امریکی شہریت رکھتے ہیں، ایک بار پھر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کا نشانہ بنا۔ حملے میں گاڑیوں اور املاک کو آگ لگائی گئی، مسجد کو جلانے کی کوشش کی گئی اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

دیر دبوان، جو وسطی مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں راملہ کے مشرق میں واقع ایک قصبہ ہے، دیگر فلسطینی علاقوں کی طرح بڑھتے ہوئے اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں سے محفوظ نہیں رہا۔ تاہم، اس قصبے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کے تقریباً۷۰؍ فیصد باشندے امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ مگر یہ حیثیت بھی انہیں تحفظ فراہم نہ کر سکی۔ مقامی باشندوں کے مطابق دیر دبوان بار بار آبادکاروں کے حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ تازہ ترین حملہ اتوار کو ہوا، جب گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا، ایک مسجد کو جلانے کی کوشش کی گئی، اور فلسطینی گھروں و املاک پر حملے کئے گئے۔ ’’انادولو ایجنسی‘‘ نے قصبے کا دورہ کیا اور مقامی لوگوں کے بیانات سنے، جبکہ میئر منصور منصور نے بتایا کہ تقریباً۶؍ ہزارآبادی والے اس قصبے کے۷۰؍ فیصد باشندے امریکی شہری ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلسطین: محمود عباس نے صدارتی انتخابات کا اعلان کردیا

امریکی شہریت رکھنے والوں کی بڑی تعداد کی وجہ مسلسل ہجرت کی وہ لہریں ہیں جو عثمانی دور کے آخری زمانے اور ۲۰؍ ویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئیں، جب کچھ مقامی افراد معاشی مواقع کی تلاش میں امریکہ چلے گئے تھے۔ ۱۹۴۸ءکی نکبہ اور۱۹۶۷ءمیں اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے نے بھی ہجرت میں اضافے کا سبب بنایا۔ 
ابتدائی مہاجرین کے امریکی شہریت حاصل کرنے کے بعد خاندانی ملاپ (Family Reunification) کے ذریعے مزید رشتہ دار بھی امریکہ منتقل ہوتے گئے۔ وقت کے ساتھ یہ ہجرت ایک وسیع سماجی رجحان بن گئی، لیکن فلسطینیوں نے اپنے آبائی قصبے سے مضبوط تعلق برقرار رکھا اور بہت سے لوگ امریکہ اور فلسطین کے درمیان زندگی گزارتے رہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینیوں کی شناخت ناممکن ہو سکتی ہے: آئی سی آر سی

حملے اور زخمی
میئر منصور نے بتایا کہ حملہ مغرب کی نماز کے بعد ہوا، جب آبادکاروں کا ایک بڑا گروہ قصبے کے اطراف میں داخل ہوا اور گاڑیوں کو آگ لگانے، نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور مسجد کو جلانے کی کوشش کرتے ہوئے لوگوں پر حملے شروع کر دیئے۔ انہوں نے کہا:’’حملے قصبے کے کئی رہائشی محلوں اور مضافاتی علاقوں تک پھیل گئے، جہاں گھروں کے سامنے کھڑی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور زرعی زمینوں میں آگ لگا دی گئی۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آوروں نے آتش گیر مواد استعمال کیا جس سے زرعی علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ بعد میں فلسطینی سول ڈیفنس اور مقامی رضاکاروں نے آگ پر قابو پایا اور اسے بجھا دیا، تاہم، اس سے مالی نقصان ہوا۔ منصور کے مطابق فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے عملے نے زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد فراہم کی، اگرچہ زخمیوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ اسرائیلی فوج اور پولیس کے کردار کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ فورسیز حملے کے بعد پہنچیں، لیکن ان کے اقدامات فوری طور پر واضح نہیں تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں سندر پچائی کے خطاب کے دوران طلبہ کا فلسطینی پرچم اور کیفیہ کے ساتھ واک آؤٹ

ایک اضافی پہلو
منصور نے کہا:’’قصبے میں امریکی شہریوں کی بڑی تعداد نے اس واقعے کو ایک اضافی جہت دے دی ہے۔ ‘‘ انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد امریکی سفارت خانے نے دیر دبوان کی بلدیہ سے رابطہ کیا اور اسرائیلی حکام سے بھی بات چیت کی گئی۔ ان کے مطابق مستقبل قریب میں قصبے کا زمینی دورہ کرنے کے وعدے بھی کئےگئے ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ بار بار ہونے والے یہ حملے دباؤ اور خوف پھیلانے کی ایک کوشش ہیں، جن کا مقصد مقامی لوگوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا معلوم ہوتا ہے۔ منصور نے مزید کہا:’’لوگ محسوس کرتے ہیں کہ حملے کے بعد امریکی سفارتی رابطے ضرور ہوئے ہیں، لیکن ابھی تک ان کا عملی اثر نظر نہیں آیا جو ان حملوں کو روک سکے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: گوگل کے سیکوریٹی ڈائریکٹر کا استعفیٰ، کمپنی پر ’’اخلاقی سمت کھونے‘‘ کا الزام

’’وہ مجھے تقریباً جلا ہی دیتے‘‘
۹۲؍سالہ رہائشی یاسر رشید نے انادولو کو بتایا کہ وہ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں موجود تھے، جہاں نمازی عشاء کی نماز کا انتظار کرتے ہوئے قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ امریکی شہریت رکھنے والے رشید نے کہا کہ مغرب کی نماز ختم ہونے کے تقریباً دس منٹ بعد انہوں نے باہر شور سنا، جس پر وہ کھڑکی کی طرف گئے۔ انہوں نے بتایا: ’’میں نے کھڑکی کھولی تو ایک آبادکار کے ہاتھ میں پٹرول کا کنستر تھا۔ اس نے میرے چہرے اور کپڑوں پر پٹرول چھڑک دیا اور پھر آگ لگا دی۔ آگ فوراً کھڑکی کے پاس بھڑک اٹھی اور میں فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ ‘‘رشید نے کہا:’’اگر میں ایک لمحہ بھی اپنی جگہ پر رہتا تو جل جاتا۔ ‘‘ان کے مطابق مسجد کے اندر موجود لوگوں نے بعد میں آگ پر قابو پا لیا اور اسے مزید پھیلنے سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں تھا بلکہ قصبے کے مختلف حصوں میں بیک وقت حملے ہو رہے تھے، جن میں گاڑیوں اور گھروں کو نشانہ بنایا گیا، حتیٰ کہ ان کی اپنی گاڑی بھی جل گئی۔ رشید نے بتایا کہ حملہ آوروں میں ۱۵؍ اور۱۶؍ سال کے نوعمر لڑکے بھی شامل تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بارسلونا: ’ساگرادا فیمیلیا‘ کی تعمیر ۱۴۴ سال بعد مکمل؛ پوپ لیو چہاردہم نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی

’’ہم ثابت قدم ہیں، ہم یہاں سے نہیں جائیں گے‘‘
رشید نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے امریکی شہری ہیں اور امریکہ اور دیر دبوان کے درمیان وقت گزارتے ہیں۔ انہوں نے کہا:’’میرا پورا وجود اس قصبے سے جڑا ہوا ہے۔ ‘‘ان کے مطابق حالیہ برسوں میں قصبہ متعدد حملوں کا سامنا کر چکا ہے، جن میں گاڑیوں کو جلانا، گھروں پر حملے اور زرعی زمینوں کو آگ لگانا شامل ہے۔ اپنی عمر کے باوجود انہوں نے اپنے وطن سے وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’’ہم یہاں ثابت قدم ہیں۔ ہم اسی سرزمین پر مریں گے اور اسے چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’مسجد کے اندر جو کچھ ہوا وہ ایک خطرناک شدت پسندی تھی، کیونکہ عبادت گاہ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اندر نمازی موجود تھے، اور یہ ہر حد پار کرنے کے مترادف ہے۔ ‘‘ رشید کے مطابق اتوار کا حملہ پہلا واقعہ نہیں تھا، اس سے قبل بھی دیر دبوان میں گاڑیاں جلانے، نمازیوں پر حملے کرنے اور مسجد کے اطراف کا علاقہ بند کرنے جیسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جن میں گھروں، گاڑیوں اور زرعی زمینوں کو جلانا اور مقامی باشندوں پر حملے کرنا شامل ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جو اسرائیلی بستیوں اور ان کے چوکی نما مراکز کے قریب واقع ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK