Updated: August 07, 2026, 11:39 AM IST
| Tehran
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ ایران اور عمان اب مشترکہ اعلامیہ کی تیاری کر رہے ہیں، ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ معاہدہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی ، یہ صرف انتظام کا نیا ماڈل ہے، امریکہ سے بھی اشارے ملے ہیں کہ وہ وعدوں پرعمل کیلئے تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران- عمان معاہدہ کے بعد امریکہ ایران معاہدہ آئندہ چند روز میں طے پاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے کی جغرافیائی حدود پر متفق ہوگئے ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عمان معاہدے کے مشترکہ اعلامیے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اس دوران ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران ۔عمان نئے انتظام کی مفاہمت آخری مرحلے کے قریب ہے، امریکہ سے اشارے ملے ہیں کہ وہ وعدوں پر پھر سےعمل کیلئے تیار ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران عمان نئےانتظام کی مفاہمت آخری مرحلے کے قریب ہے۔ جہازوں سے ٹرانزٹ فیس کا معاملہ ایرانی قیادت کے فیصلوں اور امریکی رویہ پر منحصر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایران- عمان مفاہمت کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز مکمل کھولی جائے گی، نیا ماڈل پچھلے ۶۰؍ برسوں سے جاری انتظام سے مختلف ہوگا، جہازوں کے راستے کا قابل ذکر حصہ ایرانی سمندری حدود سے گزرے گا۔ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکہ سے اشارے ملے ہیں کہ وہ وعدوں پر پھر سےعمل کیلئے تیار ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران۔ عمان معاہدہ کے بعد امریکہ ایران معاہدہ آئندہ چند روز میں طے پاسکتے ہیں۔ واضح ہوکہ امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ، عمان اور ایران کے درمیان۶۰؍ روز کے عارضی انتظام پر اتفاق ہوا ہے۔ معاہدے کے تحت خلیجی ملکوں کی جانب جانے والے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی پانیوں کا راستہ اختیار کریں گے، جبکہ آبنائے ہرمز سے بحیرۂ عرب جانے والے بحری جہاز عمانی پانیوں سے سفر کریں گے۔۶۰؍ دن کی اس مدت کے دوران کوئی فیس نہیں لی جائے گی، فریقین۳۰؍ دن کے اندر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے پر کام کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حقوق گروپ کا گرفتارغزہ کےاسپتال ڈائریکٹر کا آزاد طبی معائنے کا مطالبہ
وہیں ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات صرف مسقط اور تہران کے درمیان ہو رہے ہیں، واشنگٹن کا ان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں، اگر امریکہ کی جانب سے خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ طے پانے کے باوجود آبنائے ہرمز فوری طور پر نہیں کھولی جائے گی۔ علاقائی ذرائع کے مطابق عمان اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے علاوہ ثالثی کی کوششوں میں قطری، پاکستانی اور سعودی حکام بھی شامل تھے۔ ان مذاکرات میں وہائٹ ہاؤس بھی فعال طور پر شریک رہا اور حالیہ دنوں میں ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکاف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان متعدد ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے ہیں۔ دو علاقائی ذرائع نے بتایا کہ عباس عراقچی نے ہفتے کے آخر میں معاہدے پر اصولی طور پر اتفاق کرلیا تھا تاہم انہیں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کی منظوری درکار تھی۔ ایک امریکی عہدیدار اور علاقائی ذریعے کے مطابق ایرانی قیادت نے منگل کے روز معاہدے کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم عبوری معاہدے کے آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق فریقین کی جانب سے اس معاہدے کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے۔ کئی ہفتوں سے جاری طویل مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو بحال کرنا اور رکے ہوئے جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت کا آغاز کرنا ہے۔
امریکی رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے کنٹرول سے متعلق ایران کے وہ مطالبات بھی پورے کر دیے گئے ہیں جو جنگ سے قبل اسے حاصل نہیں تھے۔معاہدے کے تحت عمان اور ایران کے درمیان ۶۰؍روزہ عارضی انتظام طے پایا ہے جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی کی جاسکے گی۔