• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز پر امریکہ کے جواب کا انتظار ہے: ایران

Updated: September 29, 2026, 10:14 PM IST | Tehran

عراقچی نے کہا کہ قطری ثالثوں نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں جن پر تبادلہ خیال کیا گیا اور وہ ایک بار پھر یہ معاملہ امریکی فریق کے سامنے رکھیں گے، جس کے بعد امریکہ کا حتمی جواب ایران کو پہنچایا جائے گا۔ قطری ثالثوں کو امید ہے کہ یہ عمل بدھ تک مکمل ہو جائے گا۔

Iran Vs America.Photo:INN
ایران اور امریکہ۔ تصویر:آئی این این

 ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز پر منگل کو امریکہ کے باضابطہ جواب کی توقع ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق عراقچی نے کہا کہ قطری ثالثوں نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں جن پر تبادلہ خیال کیا گیا اور وہ ایک بار پھر یہ معاملہ امریکی فریق کے سامنے رکھیں گے، جس کے بعد امریکہ کا حتمی جواب ایران کو پہنچایا جائے گا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود عراقچی نے کہا کہ قطری ثالثوں کو امید ہے کہ یہ عمل بدھ تک مکمل ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:سری چرنی نے ویمنز ٹی۲۰؍ انٹرنیشنل رینکنگ میں نیا ریکارڈ قائم کیا

دریں اثنا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے تہران کو  کچھ بھی پیش نہیں کیا ۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا،  میں نے انہیں کچھ بھی پیش نہیں کیا!  یہ بیان ان سے ایران کے جوہری پروگرام پر پیش رفت کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے کے امکان سے متعلق سوال کے بعد سامنے آیا۔ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی گئی تو خطے کا کوئی بھی بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔انہوں نے کہاکہ جس خطے میں ہم تیل فروخت نہیں کر سکتے، وہاں کوئی اور بھی تیل فروخت نہیں کرے گا اور اگر ہماری سلامتی کی ضمانت نہیں دی جاتی تو کوئی بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔ 
قالیباف نے کہا کہ اگر ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکا گیا تو خطے کا کوئی ملک بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز سے متعلق ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو بھی امریکی دعوؤں کی تکرار قرار دیا۔ٹرمپ نے ہفتے کو ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا جس کے تحت سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولا جانا تھا۔ انہوں نے ایرانی شرائط کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کو آبی گزرگاہ پر  مکمل کنٹرول  حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مراکشی گلوکار سعد لمجرد کو عصمت دری کے مقدمے میں ۱۰ ؍ سال قید

تہران کی تجویز کے مطابق امریکہ منجمد ایرانی اثاثے جاری کرے گا، تیل پر عائد پابندیاں ختم کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، جس کے بعد ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کارروائی کرے گا اور حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع ہوں گے۔ ایران نے جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکی وعدوں کی تکمیل تک آبنائے ہرمز پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کی شرائط پوری ہونے اور امریکی وعدوں پر عمل درآمد تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔ امریکی فوج کے مطابق ۱۹؍ ستمبر تک حالیہ مہینوں میں ایک ارب بیرل سے زیادہ خام تیل امریکی فوجی معاونت کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے، جبکہ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ اس کی  آہنی ناکہ بندی  کے دوران ایران نے  ایک بیرل بھی  برآمد نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK