یہ ہیں ناتھن تھامس، جنہیں دنیا کے سب سے کم عمر مرد پروفیسر کے طور پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے حال ہی میں تسلیم کیا ہے۔ ناتھن نے ۱۸؍ سال۳۴۶؍ دن کی عمر میں میامی ڈیڈ کالج میں انجینئرنگ پڑھانا شروع کیا تھا۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 5:14 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
یہ ہیں ناتھن تھامس، جنہیں دنیا کے سب سے کم عمر مرد پروفیسر کے طور پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے حال ہی میں تسلیم کیا ہے۔ ناتھن نے ۱۸؍ سال۳۴۶؍ دن کی عمر میں میامی ڈیڈ کالج میں انجینئرنگ پڑھانا شروع کیا تھا۔
یہ ہیں ناتھن تھامس، جنہیں دنیا کے سب سے کم عمر مرد پروفیسر کے طور پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے حال ہی میں تسلیم کیا ہے۔ ناتھن نے ۱۸؍ سال۳۴۶؍ دن کی عمر میں میامی ڈیڈ کالج میں انجینئرنگ پڑھانا شروع کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے۳۰۶؍ سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔ یہ ریکارڈ اس سے قبل۱۹؍ سال کی عمر میں پروفیسر بننے والے کولن میکلورینکے نام تھا۔ آئیے جانتے ہیں ناتھن کے بارے میں۔
۹؍ستمبر۲۰۰۴ء کو پیدا ہونیوالے ناتھن نے اگست۲۰۲۳ء میں میامی ڈیڈ کالج کی فیکلٹی میں شامل ہوکر تاریخ رقم کی۔ جب وہ پہلی بار کلاس میں پہنچے تو ان کے کئی طلبہ تقریباً انہی کی عمر کے تھے۔انکی تعلیم کا آغاز بھی بہت کم عمری میں ہوگیا تھا۔ انہوں نے۱۰؍ سال کی عمر میں ایک خصوصی پروگرام کے تحت میامی ڈیڈ کالج میں داخلہ لیا تھا۔ بعد میں۱۴؍ سال کی عمر میں مزید تعلیم کیلئے فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی چلے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج وہ اسی کالج میں پروفیسر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:جین زی ملازمت کیلئے کس بات کو ترجیح دے رہے ہیں؟
ناتھن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) میں ان کی دلچسپی فطری طور پر پیدا ہوئی، کیونکہ انکے والدین انجینئر ہیں۔ وہ خاص طور پر اپنی والدہ کو کریڈٹ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے پیچیدہ تصورات کو سمجھنے میں ان کی بہت مدد کی۔ ان کی والدہ ہر مشکل بات کو آسان انداز میں سمجھا دیتی تھیں۔ناتھن کہتے ہیں کہ اب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی والدہ کی بہت سی باتیں انجانے میں ہی ان کے ذہن میں محفوظ ہوتی گئیں، حالانکہ اس وقت انہیں اس کا احساس نہیں تھا۔ آج یہی چیز ان کی کامیابی کا حصہ بن چکی ہے۔ اسی غیر معمولی تعلیمی سفر کی وجہ سے ناتھن نے۱۸؍ سال کی عمر تک الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلر اور ماسٹر، دونوں ڈگریاں آنرز کے ساتھ مکمل کرلی تھیں۔ اس عمر میں ان کے ہم عمر بہت سے نوجوان کالج شروع کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
ناتھن اب۲۱؍ سال کے ہو چکے ہیں اور طلبہ کو’سی ا و پی ۲۲۷۰: سی فار انجینئرز ‘‘ پڑھاتے ہیں۔ یہ کورس انجینئرنگ کے طلبہ کےلئے کمپیوٹنگ اور پروگرامنگ کے بنیادی تصورات کا احاطہ کرتا ہے۔ وہ فی الحال قانون کی تعلیم بھی شروع کر رہے ہیں۔ ان کی خواہش انٹلیکچوئل پراپرٹی قانون میں مہارت حاصل کرنے کی ہے۔ ناتھن کے مطابق، انجینئرنگ نے انہیں پیچیدہ مسائل کو منظم انداز میں چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے سمجھنا سکھایا۔ انہیں۲۰۲۸ء میں اپنی قانون کی ڈگری مکمل کرنےکی امید ہے۔ انہیں باسکٹ بال، ٹینس اور گولف پسند ہیں۔ وہ پیانو بھی بجاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: وہاٹس ایپ پر حالیہ دنوں کئی نئے فیچر شامل کئے گئے ہیں، کیا آپ جانتے ہیں؟
کامیابی کا دوسروں سے موازنہ نہ کریں
ناتھن کا کہنا ہے کہ اپنی کامیابی کا موازنہ دوسروں سے نہیں کرنا چاہیے۔ اسکے بجائے خود کو مسلسل بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ ہر شخص کا سفر مختلف ہوتا ہے، چاہے منزل ایک جیسی ہی کیوں نہ ہو۔ اکثر لوگ اپنی ترقی کا موازنہ دوسروں سے کرنے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی توجہ بھٹک جاتی ہے اور آگے بڑھنے کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔انکے مطابق ہر شخص کو وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو اس کیلئے بہترین ہو۔ نتائج فوری طور پر نظر نہ آئیں، تب بھی مسلسل محنت اور صبر کیساتھ کام کرتے رہیں۔