فرانس کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ میں اس کےمفاد کے خلاف کوئی بات ہوئی تومخالفت کی جائے گی۔
کیا ایمانویل میکرون ، ٹرمپ کو پابندی ہٹانے سے روکیں گے؟تصویر:آئی این این
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک کے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے نتیجے میں ایران کچھ پابندیاں اٹھائے جانے کا منتظر ہے۔ ایسے میں فرانسیسی وزارت خارجہ کے ذرائع نے پیر کے روز کہاہے کہ فرانس اور یورپی ممالک کی رضامندی کے بغیر ایران پر سے پابندیاں نہیں اٹھائی جا سکتیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بھی معاہدہ فرانس کے سیکوریٹی مفادات سے متصادم ہوا تو فرانسیسی وزارت خارجہ ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔ اس کے علاوہ فرانس پابندیاں اٹھانے سے قبل ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی کی کافی ضمانتیں طلب کرے گا۔فرانسیسی وزارت خارجہ نے امریکی ایرانی معاہدے کو پہلا قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ کے اقدامات سب سے مشکل ہیں۔ ساتھ ہی اشارہ کیا کہ فرانس خاص طور پر امریکہ کے ساتھ سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی مذاکرات میں حصہ لے سکتا ہے۔
جہاں تک لبنانی معاملے کا تعلق ہے تو فرانسیسی وزارت خارجہ کو خدشہ ہے کہ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی ناکامی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس نے واضح کیا ہے کہ فرانس اپنے شراکت داروں کے ساتھ یونیفل کے متبادل کے طور پر لبنان میں کثیر القومی فورس تعینات کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال کرے گا۔ یاد رہے کہ فرانس ایران اور امریکہ جنگ کے دوران غیر جانبدار رہا ہے۔ اس نے واضح طور پر امریکہ کی فوجی مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جہاں تک بات ہے ایران پر سے پابندی ہٹانے کی تو اس میں امریکہ کے علاوہ چین، فرانس، برطانیہ اور روس جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ فی الحال سوال یہ ہے کہ اگر فرانس نے ایران پر سے اٹھائی گئی پابندیوں کی مخالفت کی تو وہ اسے منوائے گا کیونکر ؟ امریکہ خود جنگ سے بچنے کیلئے ایران کے ساتھ سمجھوتے پر آمادہ ہوا ہے جس میں سب سے اہم نکتہ ایران پر لگائی گئی پابندیوں کو ختم کرنا اور اس کے منجمد فنڈ جاری کرنا ہے۔