Inquilab Logo Happiest Places to Work

’سپر پاور‘ سے مقابلہ میں لوہامنوا کر ایران عالمی طاقت بن گیا

Updated: April 09, 2026, 11:59 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

’دی گارجین‘ نے متنبہ کیا کہ مذاکرات میں بھی تہران کی بالادستی قائم رہ سکتی ہے، روسی سفارتکار نے جنگ بندی کو امریکہ کی ’’دندان شکن ‘‘ ہار قراردیا۔

As Soon As The News Of The US Being Forced To Sign A Ceasefire On Iranian Terms Was Received, People Celebrated On The Streets Of Tehran At Night. Photo: X
ایرانی شرطوں پرامریکہ کے جنگ بندی پر مجبور ہونے کی خبر ملتے ہی تہران کی سڑکوں پر رات کو ہی عوام نے جشن منایا۔تصویر:ایکس
 ایرانی شرطوں پر جنگ بندی کیلئے راضی ہونےوالے ڈونالڈ ٹرمپ بھلے ہی امریکی عوام کے سامنے اسے ’’شاندار فتح ‘‘قرار دے کر بغلیں بجارہے ہوں لیکن عالمی تجزیہ نگاروں  نےا سے ان کی ناکامی سے تعبیر کیا ہے۔  بی بی سی   میں جنگ بندی  کے  تعلق سے انتھونی زرکر   نےلکھا ہے کہ ’’ٹرمپ جنگ سے باہر نکلنے میں تو کامیاب ہوگئے مگر انہیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ ‘‘ دی گارجین میں جولین بورگر نے بھی متنبہ کیا ہے کہ’’دو ہفتوں کی جنگ بندی  نے ڈونالڈ ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کے کھلنے کوسنہری دور کی فتح مندانہ صبح قرار دینے کا موقع تو  دیدیا ہے لیکن امن مذاکرات میں مضبوط پوزیشن کے ساتھ ایران ہی داخل ہو رہا ہے۔‘‘ مجموعی طورپر وہ جنگ جو ایران نے خود نہیں   شروع کی تھی،اس میں سپر پاور کے دانت کھٹے کر کے اس نے خود کوکامیابی کے ساتھ عالمی طاقتوں کی صف میں  لاکھڑا کیا ہے۔ ’’انسائڈ اووَر‘‘ نامی پورٹل نے بھی  جنگ بندی کو امریکہ کو ایک اور ذلت آمیز شکست کا  نام دیا ہے۔ 
 ایران دنیا کی بڑی طاقت بن کر ابھرا
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے مذکورہ پورٹل  کی رپورٹ کو تفصیل سے پیش کیا ہے۔اس کے مطابق ’’آج ایران دنیا کی چوتھی بڑی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ صرف اس کی تکنیکی ترقی، توانائی کے وسائل یا اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی وجہ سے نہیں بلکہ بنیادی طور پر اس کی عالمی سطح پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کی وجہ سے ہے۔‘‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ امریکہ اور اسرائیل کی شکست کی نشاندہی کرتا ہے، جنہوں نے ایک ماہ تک جاری رہنے والے تنازع کے دوران ایران کو دبانے کیلئے حکومت کی تبدیلی، تہران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے اور اس کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔
 
 
امریکہ جنگ کا کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکا
بی بی سی کے انتھونی زرکر نے نشاندہی کی ہے کہ امریکہ اپنے اعلانیہ مقاصد کو ایران جنگ سے حاصل نہیں  کرسکا۔ ہرمز کے کھولنے کوٹرمپ کامیابی قرار دے رہے ہیں مگر زرکر کے مطابق’’ایران اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول بھی دے اور اس سے گزرنے پر کوئی ٹیکس نہ عائد کرتے تب بھی اس اہم جغرافیائی گزرگاہ پر اس کا کنٹرول پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکا ہے۔‘‘ جنگ بندی کی شرائط میں خطہ سے امریکی فوجوں کے انخلاء، ایران پر عائد پابندیوں کو ہٹانے اور جنگ کے ہرجانہ کی ادائیگی پر گفتگو کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کی آمادگی پر بھی بی بی سی کے نمائندہ نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ 
 
 
اسلام آباد میں ایرانی وفد کی موجودگی کے معنی
دی گارجین نے لکھا ہے کہ تہران کا وفد اسلام آباد اس حال میں پہنچے گا کہ وہ دنیا کویہ باور کراچکا ہوگا کہ ایرانی  حکومت  دشمنوں کی شدید ترین کارروائیوں کے باوجود  قائم ہے۔ جنگ بندی کے اعلان کے وقت ایرانی افواج  اس دعوے کو غلط ثابت کرتے ہوئے  میدان میں موجود رہیں کہ انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہےبلکہ اسرائیل اور دیگر امریکی اتحادیوں پر اس کے میزائل حملے جاری رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK