انڈین پریمیئر لیگ ۲۰۲۶ء اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ منگل کی شب دھرم شالہ کے خوبصورت اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پہلے کوالیفائر میں دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو کا سامنا گجرات ٹائٹنز سے ہوگا۔
EPAPER
Updated: May 25, 2026, 2:53 PM IST | Dharamshala
انڈین پریمیئر لیگ ۲۰۲۶ء اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ منگل کی شب دھرم شالہ کے خوبصورت اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پہلے کوالیفائر میں دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو کا سامنا گجرات ٹائٹنز سے ہوگا۔
انڈین پریمیئر لیگ ۲۰۲۶ء اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ منگل کی شب دھرم شالہ کے خوبصورت اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پہلے کوالیفائر میں دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو کا سامنا گجرات ٹائٹنز سے ہوگا۔ آر سی بی پر اس وقت نہ صرف فائنل میں پہنچنے کا جنون ہے بلکہ اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کا بھاری دباؤ بھی ہے۔
Skydiving straight into the final four! 🪂#TheFinalLeap is 🔛#TATAIPL | @RCBTweets | @gujarat_titans | @SunRisers | @rajasthanroyals pic.twitter.com/n4HVCAtBeB
— IndianPremierLeague (@IPL) May 24, 2026
یہ بھی پڑھئے:بلجیم: بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے کیسز خطرناک حد تک بڑھ گئے
یہ میچ محض دو ٹیموں کے درمیان نہیں بلکہ دو مختلف کرکٹنگ سوچ کے درمیان مقابلہ ہے۔ آر سی بی کی پوری مہم وراٹ کوہلی کی مستقل مزاجی، فل سالٹ کی جارحیت اور رجت پاٹیدار کی مضبوط بلے بازی کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا فارمولا سادہ ہے، پاور پلے میں تباہ کن بیٹنگ اور اسکور بورڈ پر ۲۰۰؍ رن سے زائد رنز کا پہاڑ کھڑا کرنا۔
اس کے برعکس، گجرات کی ٹیم اپنے بالنگ اٹیک اور ڈسپلن کے لیے جانی جاتی ہے۔ راشد خان کی اسپن جادوگری، کگیسو ربادا کی رفتار اور محمد سراج کی درستی کسی بھی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو بکھیرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گجرات کا ماننا ہے کہ ہائی پریشر میچز رنز سے نہیں بلکہ وکٹوں سے جیتے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کیا وجے کی’’جن نائگن‘‘ ۱۹؍ جون کو ریلیز ہورہی ہے
دھرم شالہ کی پچ اس سیزن میں بلے بازوں کے لیے سازگار رہی ہے جہاں پہلی اننگز کا اوسط اسکور ۲۰۰؍رن کے قریب رہا ہے۔ آر سی بی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ربادا اور سراج کے ابتدائی اسپیل سے بچنا ہوگا۔ اگر کوہلی یا سالٹ جلدی آؤٹ ہو جاتے ہیں، تو مڈل آرڈر کے لیے راشد خان کے خلاف واپسی کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔گجرات ٹائٹنز اس سیزن کے شروع میں آر سی بی کو شکست دے چکی ہے، جس سے انہیں نفسیاتی برتری حاصل ہے۔ دونوں ٹیموں کا لیگ اسٹیج میں ریکارڈ تقریباً برابر رہا ہے، لیکن ناک آؤٹ میچ میں اعداد و شمار سے زیادہ اعصاب کی جنگ اہم ہوتی ہے۔یہ مقابلہ مومنٹم بمقابلہ اسٹرکچر کا ہے۔ آر سی بی تیز رنز بنانے پر یقین رکھتی ہے، جبکہ گجرات کھیل کی رفتار کو کنٹرول کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔