Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’فاروق سید ادب اطفال کی صف اوّ ل میںشمار ہونگے‘‘

Updated: May 25, 2026, 2:48 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

فاروق سید کی شخصیت اور ادبی خدمات پر انکے ہم عصر شعراء و ادباء کا اظہار خیال، خراج عقیدت پیش کیا اورکہا کہ ادب اطفال کا یہ ناقابل تلافی نقصان ہے

Farooq Syed. Photo: INN
’فاروق سید ۔ تصویر: آئی این این

 دنیا کے ہر دور میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو  اجداد کے ورثے سے ملی شہرت اور دولت کے بجائے اپنے کام کے جنون اور انتھک محنت  سے پہچانی جاتی ہیں۔  ’’ گل بوٹے‘‘ کے مدیر اور ادب اطفال کی قدر آور شخصیت فاروق سید بھی ایسی ہی ایک باوقار اور باعمل شخصیت تھی جن کے انتقال نے دنیائے ادب کو غمزدہ کر دیا ہے۔ وہ بظاہر خاموش مزاج تھے مگر ان کی زندگی کا ہر لمحہ بچوں کے ادب اور اردو زبان کی خدمت میں گزرا۔ انہوں نے ادب اطفال کو ایک تحریک کے طور پرجیا  اور مرتے دم تک  اس تحریک کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ۔ انہوںنے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس مقصد کیلئے وقف کر دیا  تاکہ نئی نسل کو ایسا ادب فراہم کیا جائے جو اُن کی شخصیت کوسنوارے اور ان کی فکری اصلاح میں اہم کردار ادا کرے۔ اسی مقصد کےتحت فاروق سید نے ماہنامہ’’گل بوٹے‘‘ جاری کیا تھا  جس کے ابتدائی قارئین اور قلمکاروں میں راقم بھی شامل ہے۔ یہ رسالہ محض صفحات کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی فکری تحریک تھی جس کے ذریعے بچوں میں مطالعے کا ذوق، زبان سے محبت اور اچھی قدروں کا شعور پیدا کیا گیا۔ تقریباً تین دہائیوں تک فاروق سید نے مستقل مزاجی کے ساتھ اس میدان میں کام کیا اور گل بوٹے کو واقعی طلبہ کی ضرورت کا ایک بہترین مجلہ بنادیا۔  اردو اور ادب اطفال  کے ذیل میں    فاروق سید کی شخصیت اتنی ہردلعزیز تھی کہ ان کی تعزیت کیلئے ممبئی کےعلاوہ ، شولاپور ، مالیگائوں، جلگائوںاور اورنگ آباد میں بھی تعزیتی جلسوں کا انعقاد کیا گیا۔ ان کی ادبی خدمات کے سلسلے میں ہم نے  ان کے ہم عصر شعراء و ادباءسے گفتگو کی جنہوں نے فاروق سید کو خلوت و جلوت میں دیکھا اور ویسا ہی پایا۔

یہ بھی پڑھئے : تخلیقی تحریر کیلئے مصنف کی شخصیت کا تخلیقی ہونا ضروری ہے

معروف ادیب و نقاد اسلم پرویز نے کہا کہ ’’فاروق سید ادب اطفال کے حوالے سے بہت بڑا نام تھا ۔انہوں نےبچوں کے ادب کو ’’گل بوٹے‘‘ کی شکل میںصرف ایک پلیٹ فارم ہی مہیا نہیں کیا  بلکہ اسے نئی راہ بھی دکھائی۔‘‘ اسلم پرویز کے مطابق فاروق سید صرف ایک ایڈیٹر، صحافی یا ادیب ہی نہیں تھےبلکہ بچوں کے لئے بڑے کام کرنے والی بڑی شخصیت تھے۔ انہوں نے بچوں کے ادب پر دہلی میں جو قومی سمینار کیا تھا  وہ اس بات کا ثبوت  ہے کہ فاروق سید میںبڑے کام کرنے کا حوصلہ اور جذبہ  ہے  اور وہ اسے کامیاب کروانا بھی جانتے ہیں۔
ملک کےسینئر شاعر و ادیب اور فاروق سید کے دیرینہ رفیق  ڈاکٹر قاسم امام نے کہا کہ ’’ادب اطفال کا وہ تنہا مرد ِمجاہد تھاجو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر کھڑا رہا ۔ فاروق سید کی ادبی خدمات ، ادب اطفال میں اس کا قد اوربطور صحافی اس کی خدمات پر آگے بھی گفتگو ہوتی رہے گی اور اس کی خدمات کا جائزہ لیا جاتا رہے گا لیکن بطور انسان بھی وہ اتنا ہی درد مند اور دوسروں کی فکر کرنے والا تھا ۔ ‘‘قاسم امام نے بتایا کہ فاروق سید کا گزشتہ کئی رمضان سے معمول تھا کہ وہ غریبوں کی مدد  کے لئے ’افطارپیکٹ‘ فروخت کرتا تھا  ۔ اس کے علاوہ وہ بہت اچھا منتظم بھی تھا ۔ کئی پروگراموں کے انتظامات کی ذمہ داری اس نے بحسن و خوبی نبھائی ۔ گزشتہ دنوں جب اس کی تعزیتی نشست کے انعقاد کی تیاریاں چل رہی تھیں تو مجھےا س کی رہ رہ کر یاد آرہی تھی ۔ میں تو یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ کتنا اچھا انسان تھا یہ ثابت کرنے کیلئے بھی اسے مرنا پڑا۔ ڈاکٹر قاسم امام نے بتایا کہ عمرہ پر برین اسٹروک کا شکار ہونے کے بعد سے جب اسےواپس لایا گیا اور اسپتال داخل کیا گیا ، ان ڈیڑھ دو ماہ کے دوران کمال مانڈلیکر ،ڈاکٹر علاء الدین اور بینز اسپتال کے ڈاکٹر عابد سید نے جس طرح سے اس کی خدمت کی اور اس کے اہل خانہ کی ڈھارس بندھائی وہ آج کی مفاد پرست دنیا میں ناقابل یقین خدمت ہے۔

یہ بھی پڑھئے : ادیب کے تخلیقی کارنامے سماج میں پائی جانے والی حقیقتوں کا عکس ہوتے ہیں

سینئر شاعر و ادیب عرفان جعفری نے فاروق سید کے تعلق سےکہا کہ’’۳۰؍ برسوں کی رفاقت تین مٹھی مٹی کے تلے دب گئی لیکن بیتے ہوئے دنوں کی شیرینی وہی ہے جو فاروق سے پہلی ملاقات میں محسوس ہوئی تھی۔ برسوں پہلے شولا پور کے میلے میں ہم ایسے ملے کہ پھر کبھی نہیں جدا ہوئے۔‘‘ عرفان جعفری کے مطابق فاروق سیدایک ہنستا مسکراتا چہرہ، آنکھوں میں ذہانت ، قلم میں صداقت اور گفتگو میں نرمی کیساتھ سامنے آتا تھا۔ یہ وہ خوبیاں تھیں جس کا ایک زمانہ معترف اور مداح تھا۔ اس سے اسپتال میں بھی ملاقات ہوئی تھی لیکن  اس کی  یادداشت بکھر رہی تھی ، لفظ گم ہو رہے تھے۔ اسے اس حالت میں دیکھ کر  بڑا قلق ہوا۔ جب اس کی رحلت کی خبر ملی تو  وہ  تمام۳۰؍ سال آنکھوں میں گھوم گئے،اب ہمیں انہیں یادوں  کے سہارے  جینا ہے ۔
خانوادۂ سیمابؔ کے چشم و چراغ اور مشہور شاعر حامد اقبال صدیقی  کے مطابق ’’فاروق سید دیوانگی کی حد تک اردو کا عاشق تھا۔ زمینی سطح پر رہ کر بڑے بڑے کام کرنے کا سلیقہ اس نے سیکھ لیا تھا اسی لئے اس نے ہزاروں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لی تھی۔‘‘ حامد اقبال کے مطابق وہ  میرے ہر پروگرام (کوئز ٹائم  مقابلے) کے انتظامات میں پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے اندر بیک اسٹیج مینجمنٹ کاجو سلیقہ تھا وہ اب ہمیں رہ رہ کر یاد آئے گا۔  ایک مخلص اور بہت پیارا دوست بچھڑ گیا۔

یہ بھی پڑھئے : مشکل الفاظ کا درست اِملا لکھنا کتنے طلبہ جانتے ہیں؟

فاروق سید کے بھانجے اور شولاپور کی علمی و ادبی تحریک کےنمائندہ آصف اقبال نے بتایا کہ ’’فاروق سید خاندان کو ساتھ لے کر چلنے والے انسان تھے۔ حالانکہ وہ تمام اردو والوں کو اپنا خاندان مانتے تھے اور ان کے لئے ہر قدم کوئی نہ کوئی خدمت انجام دینے کیلئے تیار رہتے تھے۔ ‘‘آصف اقبال کے مطابق شولاپورسے ممبئی کا سفر اور پھر وہاں اپنے قدم جمالینے کے باوجود شولاپور کونہ بھولنا بلکہ یہاں  یونیورسٹی اور کالج  کے قیام کے لئے مرتے دم تک سرگرم عمل رہنا انہی کا خاصہ تھا ۔ انہی کی کوششوں کی وجہ سے ریاست کے مختلف شہروں میں اردو گھر قائم ہوا۔ آصف اقبال نے بتایا کہ عمرہ کے دوران حرم پاک میں سجدہ کے دوران انہیں برین اسٹروک ہوا تھا ۔  
 معروف صحافی، مدیر اور افسانہ نگار شاداب رشید نے فاروق سید کو یوں خراج عقیدت پیش کیا کہ ’’اپنی پوری زندگی ادب اطفال کیلئے صرف کردینے والی شخصیت کا نام تھا فاروق سید۔ اخبار کے بچوں کے ادبی صفحے سے رسالے تک کا سفر آسان نہیں تھا پھر بھی ان کی کوشش اور جدوجہد نے انہیں بے مثال کامیابی عطا کی۔‘‘ شاداب رشید کے مطابق ’’رسالہ کھلونا‘‘ کے مدیر الیاس دہلوی کے بعد اگر کسی بچوں کے رسالے کے مدیر کو شہرت ملی تو وہ فاروق سید ہی تھے۔ انہوں نے بچوں کے ادب کیلئے جو خدمات انجام دی اس کیلئے  ادب کے مورخین انہیں صف اول میںشمار کریںگے۔ 

یہ بھی پڑھئے : ’’آپ غالب کو غلط سمجھے ہیں‘‘

فاروق سیدکے آخری دنوں میں ان کا علاج کرنے والے بینز اسپتال کے  ڈاکٹر عابد سید نے بتایا کہ ’’ فاروق بھائی جتنے دن بھی اسپتال میں رہے میرے ساتھ ساتھ اسپتال کا عملہ بھی ان کی محبتوں کا اسیر ہوگیا تھا۔ انہیں ہر وقت اٹینڈ کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی موجود رہتا تھا اور فاروق بھائی بھی ایسے تھے کہ وہ ہمارے اسٹاف کو بھی اپنے اہل خانہ جتنی محبت دیتے تھے۔ ‘‘ڈاکٹر عابد  کے مطابق وہ بہت اچھے منتظم بھی تھے کیوں کہ ہم نے انہیں ’’ پروفیٹ فار آل‘‘ کے مہم کے دوران دیکھا کہ کس طرح وہ اتنا بڑا پروگرام  ترتیب دیتے تھے۔ اللہ ان کی مغفرت کرے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK