Updated: March 26, 2026, 5:05 PM IST
| Tehran
ایران نے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے پانچ اہم شرائط پیش کر دی ہیں، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران ثالثوں کے پیغامات کے باوجود امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی۔ تصویر: ایکس
(۱) ایران نے جنگ بندی کیلئے پانچ شرائط پیش کیں
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کیلئے پانچ بنیادی شرائط پیش کر دی ہیں، جنہیں کسی بھی ممکنہ معاہدے کیلئے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان شرائط میں جنگ بندی کی مکمل ضمانت، مستقبل میں حملوں کی روک تھام، خطے میں غیر ملکی فوجی موجودگی کا خاتمہ، اور ایران کی خودمختاری کا احترام شامل ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوگا جب تک ہماری سلامتی کی ضمانت نہیں دی جاتی۔‘‘ ذرائع کے مطابق ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور توانائی کے راستوں پر اس کے حقوق کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے شہریوں کو ممنوع سستا پیٹرول استعمال کرنے کی مجبوراً اجازت دی
یہ شرائط ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’یہ شرائط امن کیلئے نہیں بلکہ انصاف کیلئے ہیں۔‘‘ یہ بیان جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کے سخت مؤقف کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ میں توانائی کا بحران، ایندھن کی قیمتیں آسمان پر، کئی ممالک کا سبسڈی کا اعلان،قیمتوں پر گرفت سخت
(۲) عراقچی، ثالثوں کے پیغامات کے باوجود امریکہ سے بات چیت نہیں
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ثالثوں کے ذریعے پیغامات موصول ہونے کے باوجود امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں مختلف ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہو رہے ہیں، لیکن ہم امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کر رہے۔‘‘ عراقچی نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں اعتماد کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب تک زمینی صورتحال تبدیل نہیں ہوتی، مذاکرات ممکن نہیں۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’’ہم دباؤ کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔‘‘ یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ ایران فی الحال سفارتی سطح پر سخت پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔