ایران نے شیطانی سرگرمیوں کا حوالہ دے کر تہران کے مشہور کیفے کو بند کردیا، یہ کیفے معروف ولی عصر اسٹریٹ پر واقع تھا، جہاں مبینہ طور پر مغربی طرز کی موسیقی پر مشتمل پروگرام منعقد ہوتے تھے۔
EPAPER
Updated: June 01, 2026, 3:04 PM IST | Tehran
ایران نے شیطانی سرگرمیوں کا حوالہ دے کر تہران کے مشہور کیفے کو بند کردیا، یہ کیفے معروف ولی عصر اسٹریٹ پر واقع تھا، جہاں مبینہ طور پر مغربی طرز کی موسیقی پر مشتمل پروگرام منعقد ہوتے تھے۔
ایرانی حکام نے دارالحکومت تہران کے وسط میں واقع ایک مشہور کیفے کو بند کر دیا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ شیطانی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا تھا۔ یہ کیفے معروف ولی عصر اسٹریٹ پر واقع تھا، جہاں مبینہ طور پر مغربی طرز کی موسیقی پر مشتمل پروگرام منعقد ہوتے تھے۔فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، اس کیفے نے غیر اسلامی رویوں کے لیے ماحول فراہم کیا۔ جبکہ مہر نیوز ایجنسی نے بتایا کہ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ افراد شیطانی حرکات میں حصہ لے رہے تھے۔دریں اثناء تسنیم نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ۱۴؍سیکنڈ کی ویڈیو میں ایک ہجوم سے بھری جگہ دکھائی گئی، جہاں موسیقار گٹار بجا رہے تھے اور سامعین تال پر جھوم رہے تھے۔ جبکہ اس کلپ میں کوئی آواز موجود نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ایرانیوں کے حقوق کی ضمانت تک امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں: قالیباف
واضح رہے کہ ایران کی طویل تاریخ میں ان افراد اور گروہوں کے خلاف چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ رہا ہے جن پر شیطانی نظریات پھیلانے کا الزام لگایا جاتا ہے۔بعد ازاں برسوں کے دوران، نوجوانوں کی متبادل ثقافتوں سے منسلک کئی تقریبات کی جانچ پڑتال کی گئی ہے، اور کچھ راک اور ہیوی میٹل کنسرٹ کو حکام کی جانب سے شیطان پرستی سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران طویل عرصے سے ان سرگرمیوں کو کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جنہیں وہ اسلامی اقدار کے خلاف یا مغربی ثقافت سے متاثرگردانتا ہے۔ موسیقی کی تقریبات اور سماجی اجتماعات سے لے کر فیشن کے رجحانات اور ثقافتی تحریکوں تک، حکام نے اکثر ان کے خلاف کارروائی کی ہے جو ملک کے مذہبی اور ثقافتی اصولوں کو چیلنج کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج نے مسجد ابراہیمی کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کردیا
یاد رہے کہ مارچ کے آخر میں، ایرانی حکام نے مقبول ’’لمیض‘‘ کیفے کی تہران کی تمام شاخوں کو کپ کے ڈیزائن پر بند کر دیا تھا، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ امریکی-اسرائیلی حملوں میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کی طرف اشارہ کرتے تھے۔فارسی زبان کے میڈیا نے بتایا کہ آرٹ ورک میں ایک خالی کرسی تھی، جسے حکام نے خامنہ ای کی موت اور ان کے بیٹے اور جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے عوام کی نظروں سے اوجھل ہونے سے تعبیر کیا۔ تاہم کیفے نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کپ مہینوں قبل نوروز (ایرانی نیا سال) کے لیے بنائے گئے تھے۔