نئی دہلی ۴۰؍ فیصد خام تیل، ۶۰؍ فیصد مائع قدرتی گیس اور ۹۰؍ فیصد رسوئی گیس مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے جو آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہے۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 11:57 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi
نئی دہلی ۴۰؍ فیصد خام تیل، ۶۰؍ فیصد مائع قدرتی گیس اور ۹۰؍ فیصد رسوئی گیس مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے جو آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہے۔
مغربی ایشیا کے بحران اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ایندھن کی سپلائی متاثر ہونے کی بنا پر قیمتوں میں اضافہ نے رواں مالی سال کے پہلے ۴؍مہینوں میں ہندوستان کی تیل اور گیس درآمدات کی مالیت گزشتہ سال کے مقابلہ میں۴ء۴۳؍فیصد بڑھ گئی ہے۔ وزارت پٹرولیم کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل سے جولائی کے دوران تیل اور گیس کی درآمد پر ۵۷ء۸؍ ارب ڈالر خرچ ہوا جو گزشتہ سال اسی مدت میں یہ۴۰ء۳؍ارب ڈالر تھا۔تیل اور گیس درآمدات کا حساب خام تیل، قدرتی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں سے پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کی مالیت کومنہا کرکے کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:حلب: ۹۱؍ سالہ کتاب فروش، ۴۰؍ برس میں ۱۰؍ لاکھ نایاب و فراموش شدہ کتب جمع کیں
حجم کے لحاظ سے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کا حجم کم ہوا، تاہم ان کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں حجم اور مالیت دونوں لحاظ سے کمی ہوئی لیکن حجم میں کمی کے باوجود درآمدی بل گھٹنے کے بجائے بڑھ گیا جس سے بین الاقوامی بازار میں بلند قیمتوں کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا ۸۸؍ فیصد سے زیادہ درآمدات سے پوری کرتا ہے جبکہ قدرتی گیس کی کھپت کا تقریباً نصف حصہ ایل این جی کی درآمدات سے پورا ہوتا ہے۔ تیل اور گیس پر درآمدی انحصار کے باوجود ہندوستان اپنی وسیع ریفائننگ صلاحیت کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کا خالص برآمد کنندہ ہے۔ تاہم ملک ایل پی جی جیسی بعض پٹرولیم مصنوعات بھی درآمد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ریکارڈ ’سپر ایل نینو‘ کا خطرہ، ۲۰۲۷ء میں دنیا کا گرم ترین سال بننے کا خدشہ
تقریباً۴۰؍فیصد خام تیل،۶۰؍فیصد ایل این جی اور۹۰؍ فیصد ایل پی جی (رسوئی گیس) کی درآمد مشرق وسطیٰ سے ہوتی جو آبنائے ہرمز کے ذریعہ ہندوستان پہنچتی ہے۔ آبنائے ہرمزسے سپلائی میں متاثر ہونے کی وجہ سے عالمی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا جس نے ہندوستان کیلئے تیل اور گیس کی درآمد مہنگی کردی۔ ملک نے قیمتوں کے بجائے توانائی کی مسلسل دستیابی اور سپلائی کے تحفظ کو ترجیح دی۔
خام تیل کا درآمدی بل ۵۶؍ فیصد بڑھا
پٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالائسیس سیل کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل تا جولائی ہندوستان کا خام تیل درآمدی بل گزشتہ سال کے مقابلے میں۵۶؍فیصد سے زیادہ بڑھ کر۶۳ء۴؍ارب ڈالر ہوگیا۔ اس دوران درآمدی حجم معمولی اضافے کے ساتھ۸۱ء۹؍ملین ٹن رہا، جو گزشتہ سال۸۱ء۵؍ملین ٹن تھا۔ یعنی اپریل تا جولائی درآمد کئے گئے خام تیل کی اوسط قیمت تقریباً۱۰۶؍ ڈالر فی بیرل رہی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تقریباً۶۸؍ڈالر فی بیرل تھی۔ جولائی تک ۴؍ماہ کے دوران ہندوستان کا درآمدی تیل پر انحصار۸۸ء۳؍ فیصد رہا جو گزشتہ سال کے مقابلہ میں مستحکم ہے۔