Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریکارڈ ’سپر ایل نینو‘ کا خطرہ، ۲۰۲۷ء میں دنیا کا گرم ترین سال بننے کا خدشہ

Updated: August 22, 2026, 11:01 AM IST | London

بحرالکاہل میں ممکنہ طور پر غیر معمولی طاقتور ’سپر ایل نینو‘ کے خدشے نے دنیا بھر میں موسمیاتی ماہرین کی تشویش بڑھا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سمندری درجہ حرارت میں متوقع اضافہ ہوا تو ۲۰۲۷ء دنیا کا گرم ترین سال بن سکتا ہے، جبکہ شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب، جنگلات کی آگ، فصلوں کی پیداوار میں کمی اور غذائی بحران جیسے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ موسمیاتی ماڈلز میں ایل نینو کے مضبوط ہونے کے امکانات کے پیش نظر سائنس دان حکومتوں پر زور دے رہے ہیں کہ ممکنہ شدید موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دنیا ایک غیر معمولی اور ممکنہ طور پر ریکارڈ ساز موسمیاتی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہورہی ہے، جہاں ماہرین نے بحرالکاہل میں بننے والے ممکنہ انتہائی طاقتور ’سپر ایل نینو‘ کے باعث آنے والے مہینوں میں شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب، جنگلات کی آگ، غذائی قلت اور دیگر موسمیاتی خطرات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے محکمہ موسمیات (Met Office) نے اس ممکنہ ایل نینو کو غیر معمولی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ ۱۹؍ ویں صدی کے بعد سب سے بڑا ایل نینو واقعہ ہوسکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے طویل مدتی پیش گوئی کے سربراہ ایڈم اسکیف کے مطابق عام طور پر ایل نینو کے دوران بحرالکاہل کے سمندری درجہ حرارت میں معمول سے تقریباً ایک سے دو ڈگری سیلسیس اضافہ ہوتا ہے، جبکہ موجودہ صورت حال میں درجہ حرارت میں تقریباً ۳؍ ڈگری سیلسیس تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی تو یہ حالیہ تجربے سے کہیں زیادہ طاقتور موسمیاتی واقعہ ہوگا اور ۲۰۲۷ء کے دوران عالمی درجہ حرارت ایک مرتبہ پھر غیر معمولی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کے نتیجے میں ۲۰۲۷ء ممکنہ طور پر ۲۰۲۴ء کی جگہ دنیا کا گرم ترین سال بن سکتا ہے۔ عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں عارضی طور پر ۵ء۱؍ ڈگری سیلسیس سے زیادہ رہنے کا بھی امکان ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹی ساؤلو نے بھی خبردار کیا ہے کہ غیر معمولی سمندری گرمی اور بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے پس منظر میں بننے والا ایل نینو حکومتوں اور آبادیوں کے لیے خطرات سے پہلے تیاری کرنے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: اعلیٰ تعلیم یافتہ شہریوں کا ریکارڈ اخراج، ’برین ڈرین‘ کا خطرہ بڑھ گیا

سپر ایل نینو کیا ہے؟

ایل نینو بحرالکاہل میں رونما ہونے والا ایک قدرتی اور دورانی موسمیاتی عمل ہے، جس کے دوران وسطی اور مشرقی خط استوا کے قریب بحرالکاہل کی سطحی سمندری سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔ عام حالات میں تجارتی ہوائیں گرم پانی کو جنوبی امریکہ سے ایشیا کی سمت دھکیلتی ہیں اور سمندر کی گہرائی سے نسبتاً ٹھنڈا پانی اوپر آتا ہے، جسے ’اپ ویلنگ‘ کہا جاتا ہے۔ ایل نینو کے دوران یہ ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور گرم پانی مشرق کی جانب منتقل ہونے لگتا ہے۔ اس تبدیلی کا اثر صرف سمندر تک محدود نہیں رہتا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں بارش، خشک سالی، گرمی اور طوفانی سرگرمیوں کے معمولات تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب بحرالکاہل کی سطحی سمندری گرمی معمول سے ۵ء۰؍ ڈگری سیلسیس سے زیادہ ہوجائے تو ایل نینو کی کیفیت تصور کی جاتی ہے، جبکہ ۲؍ ڈگری سیلسیس سے زیادہ اضافہ اسے ’سپر ایل نینو‘ کی انتہائی شکل میں لے جاسکتا ہے۔

موجودہ پیش گوئیوں کے مطابق آئندہ موسم خزاں میں سمندر کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ کروشیل Crucial کی پیش گوئی میں آنے والے موسم سرما، یعنی دسمبر، جنوری اور فروری کے دوران ایل نینو برقرار رہنے کا امکان ۸۵؍ فیصد سے زیادہ بتایا گیا ہے، جبکہ تقریباً ۴۵؍ فیصد امکان ہے کہ یہ اتنا شدید ہو کہ اسے سپر ایل نینو قرار دیا جائے۔ امریکی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) نے بھی رواں ماہ ایل نینو شروع ہونے کی پیش گوئی کرتے ہوئے موسم سرما تک اس کے مضبوط یا انتہائی مضبوط ہونے کا امکان ۶۶؍ فیصد بتایا ہے۔ یورپی سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس (ECMWF) کے نصف سے زیادہ ماڈلز میں بھی موسم خزاں تک سمندری درجہ حرارت میں ۵ء۲؍ ڈگری سیلسیس سے زیادہ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر بل میک گائر کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں ۵ء۲؍ ڈگری کی حد عبور ہونے بلکہ ۳؍ ڈگری کے قریب پہنچنے کا امکان موجود ہے، جو ۷۸-۱۸۷۷ء کے ریکارڈ ترین ایل نینو کو چیلنج کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اٹلی کے۱۲۳؍ سال پرانے ساحل کی پالیسی پر تنازع مگرسیاحوں کی تعداد میں اضافہ

دنیا کے مختلف خطوں پر اثرات

سپر ایل نینو کے اثرات عالمی سطح پر مختلف اور بعض اوقات ایک دوسرے کے برعکس ہوسکتے ہیں۔ شمالی امریکا کے بعض علاقوں، خصوصاً شمالی امریکا اور کینیڈا میں معمول سے زیادہ گرمی اور خشک سالی کا امکان بڑھ سکتا ہے، جبکہ امریکا کے خلیجی ساحل اور جنوب مشرقی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارش اور سیلاب کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ بحرالکاہل کے خطے میں بھی صورتحال نمایاں طور پر تبدیل ہوسکتی ہے۔ چلی میں شدید بارشوں کا امکان بڑھ سکتا ہے، جبکہ انڈونیشیا میں خشک سالی اور جنگلات کی آگ کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ آسٹریلیا میں معمول سے زیادہ خشک موسم متوقع ہے، جبکہ بحرالکاہل میں شدید ٹائفون سرگرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ جنوبی ایشیا کا مانسون بھی زیادہ غیر یقینی اور متغیر ہوسکتا ہے، جس سے بارشوں کے معمول اور زرعی پیداوار پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ ایل نینو کے باعث سمندری ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہوتے ہیں۔ بحرالکاہل میں گہرے سمندر سے غذائی اجزا کے سطح پر آنے کا عمل کمزور پڑنے سے فائٹوپلانکٹن کی مقدار کم ہوسکتی ہے۔ چونکہ بہت سی مچھلیاں انہی جانداروں پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے اس تبدیلی کے اثرات خوراکی زنجیر کے ذریعے پورے سمندری ماحولیاتی نظام تک پہنچ سکتے ہیں۔

برطانیہ میں شدید گرمی اور جنگلات کی آگ کا خدشہ

برطانیہ میں ایل نینو کا اثر عام طور پر دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، تاہم یہ موسم میں شدت پیدا کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سردیوں میں، خصوصاً موسم کے آخری حصے میں، درجہ حرارت معمول سے کم جبکہ گرمیوں میں درجہ حرارت غیر معمولی طور پر زیادہ ہوسکتا ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر بل میک گائر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے عرصے میں ۴۰؍ ڈگری سیلسیس سے زیادہ گرمی بھی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ہیٹ ویوز مستقبل میں آنے والی شدید گرمی کے مقابلے میں محض ایک ابتدائی جھلک ثابت ہوسکتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جولائی ۲۰۲۶ء برطانیہ میں کم از کم گزشتہ ۲۶۰؍ برس کے دوران سب سے خشک جولائی رہا، جبکہ حالیہ خشک سالی نے جنگلات میں آگ کے خطرے کو بھی نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارے کے الحاق کے اسرائیلی عزائم کے درمیان فلسطینیوں کو `نئی نَکبہ` کا سامنا: مصطفیٰ برغوثی

غذائی قلت اور انسانی بحران کا خطرہ

ماہرین کے مطابق سپر ایل نینو کا سب سے سنگین اثر صرف درجہ حرارت میں اضافے تک محدود نہیں ہوگا۔ شدید خشک سالی اور غیر معمولی بارشوں کے نتیجے میں فصلوں کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے، جس سے خوراک کی قیمتیں بڑھنے اور پہلے ہی غربت کا شکار آبادیوں پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔ یونیورسٹی آف ریڈنگ کی پروفیسر لِز اسٹیفنز کے مطابق خشک سالی یا سیلاب کے باعث فصلوں کی پیداوار میں کمی سے خوراک کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں بڑے انسانی بحران کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پہلے ہی غربت، جنگی تنازعات اور انسانی بحران موجود ہیں، اثرات زیادہ شدید ہوسکتے ہیں۔ ۹۸-۱۹۹۷ء کے سپر ایل نینو کی مثال بھی ماہرین کے لیے باعث تشویش ہے۔ اس واقعے کے دوران دنیا کے مرجانی چٹانی نظام کو شدید نقصان پہنچا تھا اور ایک اندازے کے مطابق دنیا کے تقریباً 16 فیصد کورل ریفس تباہ ہوگئے تھے۔

کیا یہ عالمی حدت میں مزید اضافہ کرے گا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ سپر ایل نینو کو عالمی حدت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ایل نینو قدرتی موسمیاتی عمل ہے، لیکن اس وقت یہ ایک ایسے سیارے پر رونما ہورہا ہے جہاں سمندروں اور فضا کا بنیادی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں پہلے ہی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرتی ایل نینو کا اضافی گرمی کا اثر موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ اثرات کو مزید شدت دے سکتا ہے۔ ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایل نینو کے بعد عالمی درجہ حرارت میں عارضی کمی کو عالمی حدت کے خاتمے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔ ماضی میں ۸۹-۱۹۹۷ء کے سپر ایل نینو کے بعد بھی کئی برس تک عالمی درجہ حرارت اس ریکارڈ سطح تک نہیں پہنچا تھا، جسے بعض موسمیاتی تبدیلی کے منکرین نے عالمی حدت رکنے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ تاہم بعد کے برسوں میں عالمی درجہ حرارت مسلسل بڑھا اور پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ترکی:غزہ فلوٹیلا پر حملہ کے حوالے سے نیتن یاہو کے خلاف نسل کشی کا وارنٹ جاری

نایاب مگر انتہائی خطرناک موسمیاتی واقعہ

عام ایل نینو ہر دو سے سات سال کے دوران رونما ہوسکتا ہے، لیکن سپر ایل نینو انتہائی نایاب ہے۔ ۷۸-۱۸۷۷ء کے بڑے واقعے کے بعد ۲؍ ڈگری سیلسیس کی حد عبور کرنے والے نمایاں واقعات ۸۳-۱۹۸۲ء، ۹۸-۱۹۹۷ء اور ۱۶-۲۰۱۵ء میں دیکھے گئے۔ موجودہ موسمیاتی پیش گوئیوں کے مطابق اگر آنے والا ایل نینو واقعی ۵ء۲؍ سے ۳؍ ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا تو یہ اس صدی کا سب سے طاقتور ایل نینو اور تاریخ کے مضبوط ترین واقعات میں شامل ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اصل تشویش صرف ایک گرم سال نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی ہے جس میں پہلے ہی بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، خشک سالی، سیلاب اور جنگلات کی آگ انسانی معاشروں کو زیادہ کمزور بنا رہے ہیں۔ اسی لیے ایل نینو سے نمٹنے کے لیے فوری تیاری، موسمیاتی موافقت، زرعی منصوبہ بندی، پانی کے بہتر انتظام اور شدید گرمی سے نمٹنے کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK