Updated: August 07, 2026, 10:08 PM IST
| Tehran
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے ایک نئے فریم ورک پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم کسی بھی مجوزہ ٹول یا ’سروس فیس‘ کے نفاذ کے لیے ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔
آبنائے ہرمز۔ تصویر:آئی این این
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے ایک نئے فریم ورک پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم کسی بھی مجوزہ ٹول یا ’سروس فیس‘ کے نفاذ کے لیے ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر سامان کی مالیت کے حساب سے ۵؍ سے ۷؍ فیصد تک ’سروس فیس‘ یا ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ عمان نے لازمی ٹول کے بجائے رضاکارانہ ادائیگی کا ماڈل پیش کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شبھ من گل زخمی، سری لنکا الیون کے خلاف وارم اپ میچ میں کے ایل راہل کپتان
سالانہ ۱۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی کا امکان
عالمی اقتصادی جائزوں کے مطابق اگر ماضی کی طرح ایران کے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً ۲؍ سے۱ء۲؍ کروڑ بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بحال ہو جائے اور تمام جہاز ۷؍فیصد فیس ادا کریں تو ایران کی ممکنہ سالانہ آمدنی ۱۰۰؍ ارب ڈالرس سے تجاوز کر سکتی ہے۔بعض اندازوں کے مطابق خالص آمدنی ۱۳۶؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ صرف فرضی حساب کتاب (Scenario Calculation) ہے، کوئی یقینی پیش گوئی نہیں۔
ایک ٹینکر سے کتنی آمدنی؟
ایک عام وی ایل سی سی (VLCC) آئل ٹینکر تقریباً ۲۰؍ لاکھ بیرل خام تیل لے جا سکتا ہے۔ اگر خام تیل کی قیمت ۸۰؍ ڈالر فی بیرل ہو تو ایک ٹینکر میں موجود تیل کی مالیت تقریباً ۱۶۰؍ ملین ڈالر ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ۷؍ فیصد فیس تقریباً ۱۱؍ سے ۲ء۱۱؍ ملین ڈالر فی سفر کے برابر ہوگی۔
ایران کے لیے کتنی بڑی رقم؟
اگر یہ منظرنامہ حقیقت بن جاتا ہے تو سالانہ ممکنہ آمدنی کئی بڑی عالمی کمپنیوں کی سالانہ کمائی کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔اس کے مقابلے میں مصر کی نہر سویز نے مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء میں تقریباً ۶۷ء۴؍ ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی تھی، جو اس ممکنہ ہرمز ماڈل سے کئی گنا کم ہے۔اسی طرح ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ایران کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) تقریباً ۳۶۳؍ ارب ڈالر تھی۔ اگر ایران کو۱۳۶؍ ارب ڈالر سالانہ حاصل ہوتے ہیں تو یہ اس کی معیشت کے تقریباً ۳۷؍ سے۳۹۸؍ فیصد کے برابر ہوگا، وہ بھی اضافی تیل پیدا کیے بغیر۔
یہ بھی پڑھئے:شبھ من گل زخمی، سری لنکا الیون کے خلاف وارم اپ میچ میں کے ایل راہل کپتان
معاہدہ ابھی طے نہیں ہوا
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ ہونے والی پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز فوری طور پر مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ آزاد بحری آمدورفت کی بحالی سے قبل ایران چاہتا ہے کہ امریکہ بعض سیاسی اور اقتصادی شرائط پوری کرے۔ دوسری جانب امریکہ ایران کی جانب سے لازمی ٹول عائد کرنے کی مخالفت کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی مجوزہ فیس سے حاصل ہونے والی اصل آمدنی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حتمی شرح کیا مقرر ہوتی ہے، کتنے جہاز ادائیگی کرتے ہیں، کن جہازوں کو استثنیٰ ملتا ہے، اور اس نظام پر عملی طور پر کس حد تک عمل درآمد ممکن ہوتا ہے۔