Updated: March 25, 2026, 10:03 PM IST
| Washington
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکہ کے اندر سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ایک جانب صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کیلئے سنجیدہ نظر آتے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے جنگی اخراجات اور ۲۰۰؍ بلین ڈالر کے بل کی سخت مخالفت کی ہے۔ اسی دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور ٹرمپ کے بیانات میں تضاد بھی سامنے آیا ہے، جس سے واشنگٹن کی پالیسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
(۱) برنی سینڈرز نے ۲۰۰؍ بلین ڈالر کے جنگی بل کی مخالفت کی
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے خلاف جنگ کیلئے مجوزہ ۲۰۰؍ بلین ڈالر کے بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ رقم عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہونی چاہئے، نہ کہ جنگ پر۔‘‘ سینڈرز نے مزید کہا کہ وہ ہتھیاروں کی سپلائی کو روکنے کیلئے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ہم ایک اور طویل اور مہنگی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں جنگی اخراجات پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا نیا اتحاد پلان، ہرمز محدود کھولا، خطے میں طاقت کا نیا توازن
(۲) ٹرمپ کا دعویٰ، ’’صحیح‘‘ ایرانیوں کے ساتھ بات چیت جاری
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ’’صحیح ایرانیوں‘‘ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ان لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو واقعی معاملات کو سمجھتے ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ یہ رابطے اہم پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
(۳) اسرائیلی حکام، ٹرمپ ایران ڈیل کیلئے سنجیدہ ہیں
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ ہیں۔ رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں اس حوالے سے اندرونی مشاورت جاری ہے۔ ذرائع نے کہا کہ ’’ٹرمپ معاہدے کے امکانات کو تلاش کر رہے ہیں، تاہم کامیابی یقینی نہیں۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ اور مذاکرات دونوں بیک وقت جاری ہیں۔
(۴) ٹرمپ نے پیٹ ہیگستھ کو دوبارہ ایران جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا
امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو ایران جنگ کے حوالے سے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’فیصلوں میں کچھ خامیاں رہی ہیں جنہیں درست کرنا ہوگا۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی ٹرمپ نے دفاعی قیادت پر تنقید کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: بوشہر جوہری پلانٹ کو نقصان، ایران کا امریکی اسرائیلی حملوں پر بڑا الزام
(۵) ہیگستھ کا بیان، ’’ہم بموں سے بات چیت کرتے ہیں‘‘
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’ہم بموں سے بات چیت کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب ٹرمپ مذاکرات کی بات کر رہے تھے۔ ہیگستھ نے کہا کہ ’’ہم اپنی طاقت کے ذریعے پیغام دیتے ہیں۔‘‘ یہ بیان امریکہ کی سخت فوجی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن کے اندر بیانات میں تضاد نمایاں ہو رہا ہے۔