Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران نے اسے اپنی فتح قرار دیا

Updated: April 08, 2026, 9:57 AM IST | Tehran

ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل نے بدھ کوکہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ۱۰؍ نکاتی امن منصوبے کو قبول کرنے کے بعد ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ جیتنے کا اعلان کیا ہے ۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے کونسل کے حوالے سے کہا کہ ایران نے ایک بڑی فتح حاصل کی۔

Iranian Citizens.Photo:X
ایرانی شہری۔ تصویر:ایکس

ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل نے بدھ کوکہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ۱۰؍ نکاتی امن منصوبے کو قبول کرنے کے بعد ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ جیتنے کا اعلان کیا ہے ۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے کونسل کے حوالے سے کہا کہ ایران نے ایک بڑی فتح حاصل کی اور امریکہ کو ۱۰؍ نکاتی منصوبے کو قبول کرنے پر مجبور کیا ۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی دو طرفہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی رہنما نے نوٹ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت کی ضمانت دینے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران پر چھوڑنے پر بھی اتفاق کیا۔


بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف عدم جارحیت کے اصول کو تسلیم کرتا ہے ، آبنائے ہرمز پر ایران کے مسلسل کنٹرول ، ایران کی یورینیم کی افزودگی ، تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے خاتمے ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی تمام قراردادوں کو تسلیم کرتا ہے اور ایران کو معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی سے امریکی فوجیوں کے انخلا اور تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر اتفاق کرتا ہے ۔
ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان، مذاکرات جاری
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک ’حتمی‘ امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں  اور اسی سلسلے میں انہوں نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ اعلان رات گئے ایک ڈرامائی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا، جس نے دونوں ممالک کو ممکنہ بڑے فوجی تصادم کے دہانے سے واپس کھینچ لیا۔ 


واشنگٹن وقت کے مطابق شام ۶؍بج کر ۳۲؍ منٹ (بدھ کو صبح ۴؍ بج کر۲؍ منٹ ہندستانی وقت) پر، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جاری سفارتی پیش رفت کے پیش نظر وہ ایران کے خلاف طے شدہ فوجی کارروائیوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کر رہے ہیں۔  یہ اقدام ان کی جانب سے مقرر کردہ رات ۸؍ بجے (ہندوستانی وقت صبح ساڑھے ۵؍بجے) کی ڈیڈ لائن سے کچھ ہی پہلے سامنے آیا۔  اس سے قبل واشنگٹن نے خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملے کر سکتا ہے۔ 
ایک باضابطہ بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ شہباز شریف اور عاصم منیر  کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایرانآبنائے ہرمز کو’’مکمل، فوری اور محفوظ‘‘ طور پر کھولنے پر رضامند ہو۔ ٹرمپ نے کہا یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی،" اور دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدہ طے کرنے کے قریب ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:فلسطین کا غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ


انہوں نے یہ بھی بتایا کہ واشنگٹن کو تہران کی جانب سے ۱۰؍نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے انہوں نے مذاکرات کے لیے ’’قابلِ عمل بنیاد‘‘ قرار دیا  اور کہا کہ ماضی کے بیشتر اختلافی نکات حل کیے جا چکے ہیں۔  یہ اعلان ہفتے کے آغاز میں اپنائے گئے سخت مؤقف سے ایک واضح تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ منگل کی صبح تک ٹرمپ نے تہران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے ایران کی تہذیب کو  مکمل طور پر تباہ کر دینے  کی دھمکی دی تھی، جو صورتحال کی غیر یقینی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:فلسطین کا غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ


حکام کے مطابق جنگ بندی اس بات سے مشروط ہے کہ ایران بھی کشیدگی میں کمی کرے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی مکمل آمد و رفت کو یقینی بنائے جس کے لیے تہران آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔کشیدگی سے مذاکرات کی جانب یہ تیز رفتار تبدیلی اس صورتحال کی نازک نوعیت اور خلیجی خطے میں استحکام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK