Updated: March 23, 2026, 9:10 PM IST
| New York
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے دوران عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جنگ متوقع منصوبہ بندی سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے جبکہ عالمی لیڈر توانائی کے بحران کو روکنے کیلئے متحرک ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم اسٹارمر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ایران نے اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے مؤقف کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
(۱) رپورٹ: جنگ منصوبے سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے
واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کو بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ منصوبہ بندی سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ابتدائی اندازوں کے برعکس جنگ جلد ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ذرائع نے کہا کہ ’’یہ تنازع توقع سے زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے اور اس میں وقت لگ سکتا ہے۔‘‘ حالیہ پیش رفت کے مطابق جنگ اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے خاتمے کے فوری امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی حکام نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اسے طویل مدت کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ یہ صورتحال خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مسلسل فوجی کارروائیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: لاگارڈیا ایئرپورٹ پر طیارہ اور فائر ٹرک میں تصادم، متعدد پروازیں معطل
(۲) ٹرمپ اور اسٹارمر، ہرمز کھولنا عالمی استحکام کیلئے ضروری
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا عالمی توانائی کے استحکام کیلئے ضروری ہے۔ دونوں لیڈروں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اس اہم سمندری راستے کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’ہرمز کی بندش عالمی توانائی سپلائی کیلئے سنگین خطرہ ہے۔‘‘ حالیہ صورتحال میں عالمی منڈیوں پر بھی اثر پڑا ہے، جہاں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں لیڈروں نے اس بات پر زور دیا کہ اس راستے کو محفوظ اور کھلا رکھنا ضروری ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہرمز بحران عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی میزائل برلن، پیرس یا لندن تک پہنچ سکتے ہیں: اسرائیلی فوج کا دعویٰ
(۳) ایران نے پیڈرو سانچیز کا شکریہ ادا کیا
ایران نے اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے مؤقف کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے بیلسٹک میزائلوں پر ’’Thank you Prime Minister‘‘ کے الفاظ درج کر کے سانچیز کے موقف کی تعریف کی۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’ہم ان ممالک کے شکر گزار ہیں جو جنگ کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔‘‘ سانچیز نے اس سے قبل ایران پر حملوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جنگ کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’ہم جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے اور سفارتی حل ضروری ہے۔‘‘ یہ پیش رفت عالمی سفارتی محاذ پر بڑھتی ہوئی تقسیم کو ظاہر کرتی ہے۔