• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سرما کی تعطیلات؛ بچوں کی تربیت، محبّت اور کردار سازی کا موسم

Updated: November 03, 2026, 2:00 PM IST | Javeria Qazi | Mumbai

ان چھٹیوں میں بچوں کو اتنی آزادی دیں کہ ان کی صلاحیتیں پروان چڑھیں، اتنی رہنمائی کریں کہ وہ راستہ نہ بھولیں، اتنی محبت دیں کہ ان کے دلوں میں اعتماد پیدا ہو، اور اتنی تربیت دیں کہ وہ مستقبل میں معاشرے کے ذمہ دار اور باکردار افراد بن سکیں۔ ساتھ ہی صحت بخش پکوانوں سے بچوں کو ’ٹریٹ‘ بھی دیں۔

Spend time with your children during the holidays, as these moments will eventually turn into beautiful memories. Photo: INN
چھٹیوں میں بچوں کے ساتھ وقت گزاریں کیونکہ یہی لمحات آگے چل کر خوبصورت یادوں میں تبدیل ہوتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
موسم بدلتے ہیں تو فطرت کے رنگ بھی بدل جاتے ہیں۔ خزاں کے زرد پتّوں کے بعد جب سردیوں کی خنک ہوائیں چلنے لگتی ہیں، دھند کی سفید چادر زمین کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور صبح کی نرم دھوپ دل کو سکون بخشتی ہے تو زندگی ایک نئے احساس سے آشنا ہوتی ہے۔ موسم ِ سرما اپنے ساتھ جہاں سردی، سکون اور راحت کا پیغام لاتا ہے، وہیں طلبہ کیلئے تعطیلات کی صورت میں فراغت کے چند قیمتی لمحات بھی لیکر آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعطیلات محض آرام، کھیل کود اور تفریح کیلئے ہوتی ہیں، یا ان کے دامن میں تربیت، تعمیرِ شخصیت اور اصلاحِ کردار کے کچھ اہم تقاضے بھی پوشیدہ ہوتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ تعطیلات صرف تعلیمی سرگرمیوں سے عارضی وقفے کا نام نہیں، بلکہ یہ بچوں کی شخصیت کو سنوارنے، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کے اندر زندگی کے مثبت رویے پیدا کرنے کا بہترین موقع ہیں۔ 
یہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ موبائل فون نے علم کے حصول کو آسان بنایا ہے، لیکن اس کے بے جا استعمال نے بچوں کے وقت، توجہ اور صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ تعطیلات میں جب تعلیمی مصروفیات کم ہو جاتی ہیں تو بچوں کا اسکرین ٹائم بڑھ جاتا ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے موبائل استعمال کیلئے مناسب حدود مقرر کریں۔ انہیں کھیل کے میدان، مطالعے، تخلیقی سرگرمیوں، خاندانی گفتگو اور مفید مشاغل کی طرف راغب کریں تاکہ اسکرین ٹائم خودبخود کم ہوجائے۔
موسم ِ سرما میں بچوں کی صحت اور جسمانی ضروریات پر خصوصی توجہ دینا بھی والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ مناسب گرم لباس، متوازن غذا، صفائی، مناسب نیند اور جسمانی سرگرمیوں کا اہتمام بچوں کو صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ دھوپ میں کچھ وقت گزارنا، مناسب ورزش کرنا، گھر کے اندر صحتمند کھیل کھیلنا اور روزمرہ معمولات کو متوازن رکھنا، ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کیلئے مفید ہے۔
 
 
تعطیلات کا ایک اہم پہلو بچوں میں اخلاقی اقدار اور سماجی ذمہ داریوں کا شعور پیدا کرنا ہے۔ آج معاشرہ کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو صرف تعلیم یافتہ ہی نہ ہوں، بلکہ مہذب، بااخلاق، حساس اور ذمہ دار شہری بھی ہوں۔ والدین تعطیلات کے دوران بچوں کو گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں شریک کریں، انہیں بزرگوں کے احترام، چھوٹوں سے شفقت، پڑوسیوں کے حقوق اور ضرورتمندوں کی مدد کی اہمیت سمجھائیں۔ بچوں کو یہ احساس دلائیں کہ گھر کی ذمہ داریاں صرف بڑوں کا فرض نہیں بلکہ ہر فرد اپنی استطاعت کے مطابق اپنا حصہ ادا کرسکتا ہے۔ انہیں یہ بھی سکھائیں کہ معاشرہ میں ہر شخص کی عزت اہم ہے۔ گھریلو ملازمین، مزدوروں، غریبوں اور ضرورتمندوں کے ساتھ حسنِ سلوک محض ایک سماجی رسم نہیں، بلکہ انسانی شرافت کا بنیادی تقاضا ہے۔
موسم ِ سرما کی تعطیلات بچوں کی دینی اور روحانی تربیت کیلئے بھی اہم موقع ہیں۔ والدین بچوں کو نماز کی پابندی، قرآنِ مجید کی تلاوت، دعاؤں، سچائی، امانت داری اور حسنِ اخلاق کی اہمیت سے روشناس کرا سکتے ہیں۔تاہم اس سلسلے میں سختی، تحقیر اور غیر ضروری دباؤ کے بجائے محبت، حکمت اور اپنے عمل سے رہنمائی کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔
بچوں کی تربیت میں محبت اور نظم و ضبط دونوں ضروری ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کی عمر، دلچسپی، صلاحیت اور انفرادی مزاج کو سمجھیں۔ ہر بچہ یکساں نہیں ہوتا؛ کسی کو مطالعے میں دلچسپی ہوتی ہے، کسی کو کھیل میں، کسی کو مصوری میں اور کسی کو سائنسی تجربات میں۔ تربیت کا مقصد بچوں کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کو درست سمت دینا ہے۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، ان کی چھوٹی کامیابیوں کو سراہا جائے اور غلطیوں پر سمجھانے کا مہذب طریقہ اپنایا جائے تو بچے زندگی کے مسائل کا سامنا زیادہ بہتر انداز میں کرسکتے ہیں، ساتھ اُن کا اعتماد بڑھتا ہے۔
موسم ِ سرما کی تعطیلات بظاہر چند دنوں کی فراغت ہیں لیکن دانشمندی سے استعمال کی جائیں تو یہ بچوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بچوں کا مستقبل صرف اسکول کی عمارتوں میں تعمیر نہیں ہوتا بلکہ گھروں کے ماحول، والدین کے رویوں اور روزمرہ زندگی کے تجربات میں بھی اس کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ایک بچہ جب اپنے والدین کو مطالعہ کرتے، سچ بولتے، دوسروں کا احترام کرتے اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے دیکھتا ہے تو یہ مناظر اس کی شخصیت پر گہرے نقوش چھوڑتے ہیں۔
آئیے! اس موسم ِ سرما میں ہم تعطیلات کو محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ انہیں تربیت، محبت، مطالعے، صحت اور کردار سازی کا موسم بنائیں۔ بچوں کو اتنی آزادی دیں کہ ان کی صلاحیتیں پروان چڑھیں، اتنی رہنمائی کریں کہ وہ راستہ نہ بھولیں، اتنی محبت دیں کہ ان کے دلوں میں اعتماد پیدا ہو، اور اتنی تربیت دیں کہ وہ مستقبل میں معاشرہ کے ذمہ دار اور باکردار افراد بن سکیں۔ یاد رکھئے! تعطیلات چند دنوں کیلئے ہوتی ہیں مگر ان دنوں میں دی گئی اچھی تربیت پوری زندگی کا سرمایہ بن سکتی ہے۔ والدین کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ ان کے بچے صرف اچھے نمبر حاصل کریں بلکہ یہ ہے کہ وہ اچھے انسان بنیں کیونکہ تعلیم انسان کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتی ہے مگر کردار ہی اسے اس منزل پر باوقار بناتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK