Updated: April 17, 2026, 1:47 PM IST
| Tehran
ایرانی قانون ساز احمد نادری نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک منصوبے کا ذکر کیا ہے جس کا مقصد علاقائی مالیاتی نظام کے ذریعے ایرانی کرنسی ریال کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے سمندری ٹرانزٹ آمدنی میں اضافہ اور خطے کی تجارت میں ریال کے کردار کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایک ایرانی قانون ساز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو باضابطہ بنانے کے مجوزہ منصوبے کا مقصد علاقائی مالیاتی نظام کے ذریعے ایرانی کرنسی ’’ریال‘‘ کو مضبوط کرنا ہے۔ پارلیمنٹ کی پریذائڈنگ بورڈ کے رکن احمد نادری نے کہا کہ اس منصوبے میں سمندری ٹرانزٹ سے متعلق ادائیگیوں کو ریال میں کرنے کی تجویز شامل ہے، اور اسے خطے کی تجارت میں کرنسی کے کردار کو بڑھانے کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی اندازہ لگایا کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں سمندری آمد و رفت کے انتظام اور ریگولیشن سے حاصل ہونے والی آمدنی سالانہ۱۰؍ سے ۱۵؍ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے، اور خبردار کیا کہ بعض تجزیوں میں جو زیادہ اعداد و شمار گردش کر رہے ہیں وہ ’’مبالغہ آمیز‘‘ ہیں اور زمینی حقائق کے مطابق نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران جنگ کو ’’چھوٹا سا رخ بدلنا‘‘ قرار دیا، جلد خاتمے کا دعویٰ
نادری، جو تہران سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں، نے آبنائے ہرمز سے متعلق آمدنی کے بارے میں ’’جذباتی اور غیر حقیقی‘‘ تصورات سے خبردار کیا اور کہا کہ ایسی روایات دشمنوں کی جانب سے پیدا کئےگئے معاشی اور سماجی دباؤ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز سے بحری جہاز رانی حالیہ طور پر شدید متاثر ہوئی ہے جب۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ شروع ہوئی، اور کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسلام آباد میں واشنگٹن-تہران مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا گیا۔ بتا دیں کہ دنیا کے تقریباً۲۰؍ فیصد تیل کی سپلائی روزانہ اس آبنائے سے گزرتی ہے، اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال نے تیل کی قیمتوں کے ساتھ شپنگ اور انشورنس کے اخراجات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔