دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کے اراکین کی شرانگیزی ، امام کو بھی دھمکیاں دیں،مسجد کے غیر قانونی ہونے کادعویٰ، علاقے کے مسلمانوں میں خوف۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 3:17 PM IST | Mumbai
دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کے اراکین کی شرانگیزی ، امام کو بھی دھمکیاں دیں،مسجد کے غیر قانونی ہونے کادعویٰ، علاقے کے مسلمانوں میں خوف۔
میگھالیہ کے دارالحکومت میں شدت پسندوں کے ہنگامے کے بعد کشیدگی کی اطلاعات ہیں ۔ دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کے اراکین نے مبینہ طور پر ایک مسجد کو زبردستی بند کر وادیا اور اس کے امام کو دھمکیاں دیں جس سے مقامی مسلمانوں میں ناراضگی پھیل گئی۔یہ واقعہ شیلانگ کے لوئر لمپرنگ علاقے میں پیش آیا جہاں خاصی اسٹوڈنٹس یونین (کے ایس یو) نے مبینہ طور پر مداخلت کرکے لمپرنگ مسجد کو بند کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق تنظیم نے دعویٰ کیا کہ مسجد کسی قانونی اجازت کے بغیر چل رہی تھی۔گزشتہ روز تنظیم کے اراکین جائے وقوع پر پہنچے اور وہاں موجود لوگوں سے مذہبی سرگرمیاں بند کرنے کی دھمکی دی۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ تنظیم نے کسی رسمی انتظامی احکامات کا انتظار کئے بغیر یہ کارروائی کی۔ایک رہائشی نے کہا’’لوگ خوفزدہ تھے۔ وہ ایک گروپ میں آئے اور زبردستی مسجد کو بند کرا دیا۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: حد بندی بل پر تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ کا شدید احتجاج، بل کی کاپی نذر آتش کردی
مسجد کے امام کو بھی مبینہ طور پر دھمکی دی گئی اور فوری طور پر انہیں احاطے کو خالی کرنے کو کہا گیا۔ مسلم فرقہ کے ایک رکن نے کہا’’یہ صرف ایک عمارت کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہمارے نماز پڑھنے اور خوف کے بغیر رہنے کے حق کے بارے میں ہے۔ اس واقعہ کے بعد ہم خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں ‘‘، دریں اثنا کے ایس یو کے نمائندے شائن شائننگ اسٹار چن نے دعویٰ کیا کہ یہ ڈھانچہ غیر مجاز تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’یہ جگہ قریبی قبرستان کے نگراں کیلئے تھی لیکن بعد میں اسے بغیر اجازت کے مسجد کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ہم نے یہ مسئلہ پہلے بھی اٹھایا ہے۔‘‘ صورتحال کی سنگینی کے باوجود ضلع انتظامیہ یا پولیس حکام کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس خاموشی نے مبصرین میں تشویش کو جنم دیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ اعتماد اور نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے ایسے واقعات پر فوری اور واضح ردعمل ضروری ہے۔ایک قانونی مبصر نے کہا’اگر کوئی ڈھانچہ مجاز نہیں ہے، تو اسے قانونی عمل کے ذریعے نمٹا جانا چاہیے۔ کوئی بھی گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ابھی تک کسی قسم کے تشدد کی اطلاع نہیں ملی ہے تاہم حالات بدستور کشیدہ ہیں ۔ بہت سے رہائشی اب مذہبی حقوق کے تحفظ اور قانون کے تحت مساوی سلوک کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔