• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینس کی وضاحت: بندھوا مزدور سے متعلق تبصرے کا نشانہ ایچ وَن بی ویزا نظام تھا

Updated: October 18, 2026, 6:05 PM IST | New York

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے تسلیم کیا ہے کہ ایچ وَن بی ویزا یافتگان کو بندھوا مزدور قرار دینے سے متعلق ان کا تبصرہ مناسب نہیں تھا۔ ہندوستان کے سخت اعتراض کے بعد انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید کا نشانہ ملازمین نہیں، بلکہ کمپنیاں اور ویزا نظام تھا۔

Vance.Photo:INN
وینس۔ تصویر:آئی این این

 امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے تسلیم کیا ہے کہ ایچ-وَن بی ویزا یافتگان کو بندھوا مزدور قرار دینے سے متعلق ان کا تبصرہ مناسب نہیں تھا۔ ہندوستان کے سخت اعتراض کے بعد انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید کا نشانہ ملازمین نہیں، بلکہ کمپنیاں اور ویزا نظام تھا۔
سی بی ایس کے ایک ٹاؤن ہال پروگرام میں مسٹر وینس نے کہا کہ ویزا نظام آجروں کو غیر ملکی کارکنوں پر حد سے زیادہ اختیار دیتا ہے، کیونکہ امریکہ میں ان کی قانونی حیثیت ان کی ملازمت پر منحصر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ  اگر میرا بیان پوری طرح درست نہیں تھا تو اس کی ذمہ داری میری ہے۔ ویزا یافتگان یا ایچ وَن  بی  ویزا رکھنے والے کچھ افراد کے بارے میں میں نے جو کہا تھا، وہ اس پورے زمرے پر لاگو نہیں ہوتا۔ 

یہ بھی پڑھئے:لندن: دھرو راٹھی کا ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج، بندر کے کھلونے سے مودی پر طنز

وینس نے دلیل دی کہ ایچ- وَن  بی ویزا پر کام کرنے والے ملازمین استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ ملازمت چھن جانے سے امریکہ میں رہنے کی ان کی صلاحیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں ملازمین کی اس مجبوری کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں، کیونکہ ملک میں ان کا قیام ان کی ملازمت پر ہی منحصر ہوتا ہے۔ وینس نے کہاکہ  انہیں واپس ان کے ملک بھیجا جا سکتا ہے، جس سے میرے خیال میں آجروں کو بہت زیادہ اختیارات مل جاتے ہیں۔انہوں نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ان کی تنقید اس ویزا نظام کے خلاف تھی، جو غیر ملکی ملازمین کے ساتھ بندھوا مزدوروں  جیسا سلوک کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔اس ماہ کے آغاز میں ویزا دھوکہ دہی سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں   وینس نے ایچ- وَن بی ویزا پر کام کرنے والے ملازمین کو بندھوا مزدور  قرار دیا تھا اور غیر ملکی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں پر امریکی کارکنوں کی اجرت کم کرنے کا الزام لگایا تھا۔
انہوں نے کہا تھاکہ  اگر آپ امریکہ میں ایچ-وَن بی ویزا پر کام کر رہے ہیں تو آپ اسی عہدے پر کام کرنے والے کسی امریکی شہری کے مقابلے میں۲۰؍ہزار امریکی ڈالر کم کماتے ہیں۔ اگر آپ کو ان غیر ملکی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں میں سے کوئی امریکہ لایا ہے تو آپ اسی طرح کے عہدے پر کام کرنے والے کسی امریکی شہری کے مقابلے میں ۴۸؍ہزار امریکی ڈالر کم کماتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’دوران جدوجہد طبی شعبے کا تجربہ میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ‘‘

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کمپنیاں اپنا منافع بڑھانے کے لیے امریکی ملازمین کو ملازمت سے نکال رہی ہیں اور کم اجرت پر غیر ملکی کارکنوں کو لا رہی ہیں۔ ہندوستان نے  وینس کے تبصروں پر سخت تنقید کی تھی اور ایچ-وَن بی ویزا رکھنے والوں کے لیے اس طرح کی اصطلاح کے استعمال کو انتہائی توہین آمیز  قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں تکلیف دہ تاریخی اور نوآبادیاتی ورثے کے مضمرات پائے جاتے ہیں۔ وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے کہا کہ ان تبصروں میں امریکی معیشت اور اختراعی نظام میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کے تعاون کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہاکہ  ہمارا ماننا ہے کہ اس طرح کے تبصرے غیر ضروری ہیں۔ ان میں اس حقیقت کو نظرانداز کیا گیا ہے کہ امریکہ میں کام کرنے والے ہندوستانی پیشہ ور افراد انتہائی تعلیم یافتہ ہیں اور وہاں کی معیشت اور اختراعات میں اہم رول ادا کر رہے ہیں  وزارت نے امریکہ کی ترقی اور خوشحالی میں تارکین وطن کے تعاون کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ نسل در نسل تارکین وطن نے ملک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی کو نئی شکل دینے میں مدد کی ہے۔ وزارت نے کہاکہ  ایسی اصطلاحات کا استعمال، جن میں تکلیف دہ تاریخی اور نوآبادیاتی ورثے کے مضمرات پائے جاتے ہیں، انتہائی توہین آمیز ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK