ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیوں میں نرمی کے لیے انتہائی افزودہ یورینیم کو کمزور کرنے پر کام کرسکتا ہے۔ ایران کے جوہری توانائی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ پابندیاں ختم کرتا ہے تو تہران اپنی انتہائی افزودہ یورینیم کو کمزور کرنے کے لیے تیار ہے۔
EPAPER
Updated: February 11, 2026, 11:01 AM IST | Agency | Tehran
ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیوں میں نرمی کے لیے انتہائی افزودہ یورینیم کو کمزور کرنے پر کام کرسکتا ہے۔ ایران کے جوہری توانائی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ پابندیاں ختم کرتا ہے تو تہران اپنی انتہائی افزودہ یورینیم کو کمزور کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیوں میں نرمی کے لیے انتہائی افزودہ یورینیم کو کمزور کرنے پر کام کرسکتا ہے۔ ایران کے جوہری توانائی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ پابندیاں ختم کرتا ہے تو تہران اپنی انتہائی افزودہ یورینیم کو کمزور کرنے کے لیے تیار ہے جو امریکہ کے اہم مطالبے پر لچک کا اشارہ دیتا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق محمد اسلامی نے پیر کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے اپنی ۶۰؍ فیصد افزودہ یورینیم کو کمزور کرنے کے امکانات ہیں جو کہ ہتھیاروں کے درجے کے قریب ہے، اس بات پر منحصر ہے کہ آیا اس کے بدلے میں تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھئے:ہند- پاک میچ کا مداحوں اور کھلاڑیوں نے خیر مقدم کیا
اسلامی نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ایران سے تمام پابندیاں ہٹائے جانے کی توقع ہے یا خاص طور پر وہ پابندیاں جو امریکہ کی طرف سے لگائی گئی ہیں۔ یورینیم کو پتلا کرنے کا مطلب ہے کہ اس کی افزودگی کی سطح کو کم کرنے کے لیے اسے مرکب مواد کے ساتھ ملایا جائے۔ اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے مطابق ایران واحد ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں جس نے یورینیم کو ۶۰؍ فیصد تک افزودہ کیا ہے۔ اس دوران ایرانی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی منگل کے روز عمان پہنچ گئے ۔ عمان اس وقت تہران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد ممکنہ امریکی حملے کو روکنے کی کوشش کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایپسٹین فائلز مغربی اشرافیہ کی خالص شیطنت کو ظاہر کرتی ہیں: روسی وزیر خارجہ
ایرانی میڈیا کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ علی لاریجانی گزشتہ ہفتے مسقط میں امریکیوں کے ساتھ ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے پہلے دور پر اپنے ملک کا جواب ساتھ لے کر گئے ہیں۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق لاریجانی عمان کے سلطان ہیثم بن طارق اور وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں علاقائی و بین الاقوامی صورتحال اور مشترکہ اقتصادی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ روز آرمینیا کے دورے کے دوران کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ریڈ لائنز (حدود) کے تعین کا حتمی فیصلہ ڈونالڈ ٹرمپ کریں گے۔