• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایپسٹین فائلز مغربی اشرافیہ کی خالص شیطنت کو ظاہر کرتی ہیں: روسی وزیر خارجہ

Updated: February 11, 2026, 10:01 AM IST | Moscow

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ ایپسٹین فائلز مغربی اشرافیہ کی خالص شیطنت کو ظاہر کرتی ہیں، انہوںنے دعویٰ کیا کہ مغرب کا ڈیپ اسٹیٹ اجتماعی طور پر بے نقاب ہوگیا ہے۔

Russian Foreign Minister Sergei Lavrov. Photo: INN
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف۔ تصویر: آئی این این

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے این ٹی وی چینل پر اٹوگی نیڈیلی ہفتہ وار نیوز راؤنڈ اپ کے انٹرویو میں کہا کہ ایپسٹین کیس نے مغربی اشرافیہ کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے جو دنیا پر حکومت کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے ان افشا کو ’’خالص  شیطنت ‘‘ سے تعبیر کیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے  مغرب کے اجتماعی ڈیپ اسٹیٹ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے اسے رومانوی انداز میں پیش کرتے ہوئے روسی ارب پتیوں اور اشرافیہ سے اس بدنام زمانہ جنسی اسمگلر کے تعلقات پر بھی روشنی ڈالی ۔ چینی خبررساں ادارے ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے مشہور سوویت شاعر ولادیمیر ویژوتسکی کا حوالہ دیاکہ ’’سیارے پر ہماری نفوذ خاص طور پر دور سے نمایاں ہے۔‘‘لاوروف نے کہا،’’یہ موضوع (ایپسٹین فائلز) اس چیز کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے کے بارے میں ہے جسے اجتماعی مغرب کہا جاتا ہے، جسے ڈیپ اسٹیٹ کہا جاتا ہے، یا بہتر طور پر، ڈیپ یونین جو مغربی ممالک پر حکومت کرتی ہے اور پوری دنیا پر حکمرانی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میرے خیال میں عام لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ یہ انسانی منطق سے بالاتر ہے اور یہ خالص  شیطنت ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے ہندوستان پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی تھی: روسی وزیر خارجہ کا الزام

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے بھی کہا کہ ایپسٹین فائلز مغربی اشرافیہ میں موجود بدعنوانی کی انتہائی پست سطح کو ظاہر کرتی ہیں۔واضح رہے کہ لاوروف کے تبصرے اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایپسٹین فائلز کی تازہ اشاعت نے پورے یورپ میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ایک شہزادہ، ایک شہزادی، اعلیٰ سیاسی شخصیات، ایک سفیر اور سینئر ڈپلومیٹس یا تو استعفیٰ دے چکے ہیں یا انہیں ہٹا دیا گیا ہے، کچھ نے علامتی معافی بھی مانگی ہے۔ اس فہرست میں سابق شہزادہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن، برطانیہ کے واشنگٹن میں سفیر پیٹر منڈیلسن، اور برطانوی وزیر اعظم مورگن میکسوینی کے چیف آف اسٹاف شامل ہیں۔اس کے علاوہ ناروے کے اقتصادی جرائم یونٹ نے سابق وزیر اعظم تھوربیورن جاگلینڈ کے خلاف بدعنوانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اوسلو معاہدے کا حصہ رہنے والی ناروے کی اردن میں سفیر مونا جول نے استعفیٰ دے دیا ہے۔جبکہ ناروے کی شہزادی میٹ ماریت نے ایپسٹین سے اپنے تعلقات پر معافی مانگی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چین امریکہ تعلقات میں بہتری کے اشارے، صدر شی جن پنگ امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں: ٹرمپ

سلوواکیہ میں سابق وزیر خارجہ میروسلاو لاجچاک نے قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، سویڈن کی اقوام متحدہ کی اہلکار جوآنا روبن اسٹائن نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور فرانس کے ثقافتی وزیر جیک لانگ نے عرب ورلڈ انسٹی ٹیوٹ کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔جبکہ امریکہ کسی نہ کسی طرح اس ہلچل سے خود کو الگ تھلگ رکھنے میں کامیاب رہا ہے، حالانکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ، سابق صدر جارج بش اور بل کلنٹن کے خلاف سنگین الزامات ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK