Updated: April 04, 2026, 9:15 PM IST
| Tehran
ایران میں جاری امریکی اسرائیلی حملوں کے دوران صحت کے شعبے کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے طبی مراکز پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق کم از کم ۲۴؍ طبی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کے باعث طبی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں اور مریضوں کو علاج کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ عالمی اداروں نے صحت کے نظام کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
(۱) عالمی صحت کا بحران: عالمی ادارہ صحت کا ایرانی طبی مراکز پر حملوں پر انتباہ
عالمی ادارہ صحت نے ایران میں طبی مراکز پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ صحت کی سہولیات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے اور اس سے انسانی بحران میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے بیان میں کہا گیا کہ’’طبی مراکز اور عملے کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔‘‘ ادارے نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحت کے نظام کو محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کریں۔ رپورٹس کے مطابق متعدد طبی مراکز کو نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث علاج کی سہولیات متاثر ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا: امریکی انٹیلی جنس، عالمی تیل سپلائی متاثر
(۲) ایران میں انسانی نقصان: کم از کم ۲۴؍ طبی کارکن ہلاک
رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری حملوں کے نتیجے میں کم از کم ۲۴؍ طبی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملہ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ہلاکتیں مختلف حملوں کے دوران ہوئیں، جب طبی عملہ اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ’’صحت کے شعبے کو نشانہ بنانے سے نہ صرف فوری نقصان ہوتا ہے بلکہ طویل المدتی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔‘‘ ایرانی حکام نے ان ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طبی عملے کا تحفظ ضروری ہے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔