Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا: امریکی انٹیلی جنس، عالمی تیل سپلائی متاثر

Updated: April 04, 2026, 8:05 PM IST | Washington

آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران فوری طور پر اس اہم بحری راستے کو کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس صورتحال نے عالمی تیل سپلائی، تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔ محدود سطح پر بحری سرگرمیاں جاری ہیں، جن میں ہندوستانی جہازوں کی نقل و حرکت بھی شامل ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، جس کی بندش سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

(۱) امریکی انٹیلی جنس کا انتباہ: ایران جلد آبنائے ہرمز کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتا
امریکی انٹیلی جنس اداروں نے کہا ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے اتحادی ممالک کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ’’ایران کی جانب سے اس راستے کو جلد بحال کرنے کے آثار نہیں ہیں۔‘‘ ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور بحری راستوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کے تقریباً ۲۰؍ فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے اسرائیل کی کارروائیوں کو اپنے فیصلوں سے جوڑ دیا، سخت مؤقف

(۲) آبنائے ہرمز بطور دباؤ: عالمی تجارت، توانائی اور بحری راستے خطرے میں
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کے شعبے پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ بحری راستہ عالمی تیل سپلائی کیلئے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، اور اس میں کسی بھی رکاوٹ کے فوری اثرات عالمی منڈیوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق متعدد تجارتی جہازوں نے اس راستے سے گزرنے میں تاخیر کی، جبکہ کچھ جہازوں نے متبادل راستے اختیار کیے۔ انشورنس کمپنیوں نے بھی خطرات کے پیش نظر پریمیم میں اضافہ کیا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جبکہ سپلائی چین میں خلل کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: خلیجی ممالک پر راتوں رات ڈرون حملے، توانائی انفراسٹرکچر نشانے پر

(۳) آٹھ ہندوستانی جہاز ہرمز سے گزرے
رپورٹس کے مطابق ہندوستان کے کم از کم آٹھ تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، جو جنگ کے آغاز کے بعد کسی بھی ملک کی جانب سے سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ہندوستانی حکام نے کہا ہے کہ جہازوں نے حفاظتی اقدامات کے تحت سفر کیا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ’’ہم اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘ یہ جہاز توانائی اور تجارتی سامان لے کر اس راستے سے گزرے، جبکہ بحری نگرانی کے اقدامات بھی بڑھائے گئے۔ بین الاقوامی بحری ذرائع کے مطابق محدود سطح پر جہاز رانی جاری ہے، تاہم خطرات برقرار ہیں اور سیکوریٹی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK