امریکی سافٹ ویئر کمپنی کلِک اَپ نے اے آئی پر مبنی کرداروں کے ذریعے کام کی صلاحیت کو۱۰۰؍گنا تک بڑھانے کے مقصد سے اپنے آپریشنز میں تبدیلی کرتے ہوئے ۲۲؍ فیصد ملازمین کو نکال دیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 9:08 PM IST | New York
امریکی سافٹ ویئر کمپنی کلِک اَپ نے اے آئی پر مبنی کرداروں کے ذریعے کام کی صلاحیت کو۱۰۰؍گنا تک بڑھانے کے مقصد سے اپنے آپریشنز میں تبدیلی کرتے ہوئے ۲۲؍ فیصد ملازمین کو نکال دیا ہے۔
امریکی سافٹ ویئر کمپنی کلِک اَپ نے اے آئی پر مبنی کرداروں کے ذریعے کام کی صلاحیت کو۱۰۰؍گنا تک بڑھانے کے مقصد سے اپنے آپریشنز میں تبدیلی کرتے ہوئے ۲۲؍ فیصد ملازمین کو نکال دیا ہے۔ کلک اپ کے سی ای او نے کہا کہ یہ فیصلہ کمپنی کی مضبوط مالی اور کاروباری پوزیشن کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور اس سے ہونے والی زیادہ تر بچت باقی ملازمین اور اے آئی کی مدد سے غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے ملازمین کو زیادہ تنخواہیں دینے پر خرچ کی جائے گی۔
سافٹ ویئر فرم کلک اپ کے بانی اور سی ای اوزیب ایوانس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’’آج ہم نے اپنے ملازمین کی تعداد میں ۲۲؍ فیصد کمی کی ہے۔ کمپنی اس وقت اپنی تاریخ کی مضبوط ترین پوزیشن میں ہے۔ یہ فیصلہ میرا تھا اور اس کی پوری ذمہ داری بھی میری ہے۔ میں نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ انتہائی اعلیٰ سطح کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ کام کرنے کا طریقہ تیزی سے بدل رہا ہے۔‘‘
ایوانس نے کہا کہ جن ملازمین کو فارغ کیا گیا ہے، انہیں ایسا پیکیج دیا جائے گا جو ان کی خدمات کا احترام کرے اور انہیں اس تبدیلی کے دور میں مدد فراہم کرے۔ کمپنی ان ملازمین کے لیے سالانہ ۱۰؍ لاکھ ڈالر تک کی تنخواہ کی حد متعارف کرائے گی جو ۱۰۰؍گنا اثر والی کارکردگی دکھائیں گے۔
انہوں نے ایک نئے آپریٹنگ ماڈل کی بھی وضاحت کی، جس کے تحت بہترین انجینئرز اور پروڈکٹ لیڈرز صرف کوڈ لکھنے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اے آئی ایجنٹس کو چلائیں گے اور ان کے کام کا جائزہ لیں گے، جس سے ان کی پیداواری صلاحیت کئی گنا بڑھ جائے گی۔انہوں نے کہاکہ عام خیال یہ ہے کہ اے آئی ہر شخص کو زیادہ پیداواری بنا دیتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اگر آج کے بہت سے ورک فلو بغیر تبدیلی کے جاری رہے تو وہ اے آئی سسٹمز کے لیے رکاوٹ بن جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ سے پہلے بڑا دھماکہ، سینیگال کا اسکواڈ آگیا، سادیو مانے کپتان
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کمپنی کے بہترین انجینئر اپنا وقت دوسرے ملازمین کے کوڈ کا جائزہ لینے میں صرف کریں گے تو یہ ایک ’’غیر مؤثر رکاوٹ‘‘ بن جائے گا۔ ان کے مطابق، یہ انجینئر اے آئی ایجنٹس کے تیار کردہ کوڈ کا جائزہ انسانی کوڈ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے لے سکتے ہیں۔ سی ای او نے کہاکہ ’’دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ اے آئی کی مدد سے اپنی ملازمت کو خودکار بنا لیتے ہیں، ان کے پاس ہمیشہ کام رہے گا۔ وہ اے آئی سسٹمز کے مالک، یعنی ایجنٹ منیجرز بن جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:موہن لال کی مشہور تھرلر ’’درِیشیم‘‘ کا انڈونیشیائی ری میک بنے گا
اس سے پہلے میٹا، جو فیس بُک کی بنیادی کمپنی ہے، نے بھی اس ہفتے اپنی عالمی افرادی قوت میں ۱۰؍ فیصد کمی کرنا شروع کی تاکہ وہ اپنی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنا سکے۔
رپورٹس کے مطابق، ۲۰۲۶ءمیں عالمی ٹیک سیکٹر میں ملازمتوں میں کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سال اب تک ایک لاکھ سے زیادہ نوکریاں ختم ہو چکی ہیں، جبکہ مجموعی تعداد ۳؍ لاکھ سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے۔ اس میں اوریکل، امیزون اور میٹا جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔