Updated: April 10, 2026, 12:02 PM IST
| Washington
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ایران کی مبینہ سرگرمیوں اور تیل بردار جہازوں سے فیس لینے کی خبروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور نازک جنگ بندی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات (۹؍ اپریل) کو خبردار کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں سے فیس وصول کر رہا ہے تو اسے’’ابھی فوراً روک دینا چا ہئے۔ ‘‘ ان کے یہ ریمارکس ٹروتھ سوشل پر سامنے آئے اور امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے نازک جنگ بندی کو مزید کشیدہ بنا دیا، جو صرف دو دن قبل طے پائی تھی۔ ٹرمپ نے منگل کی شام کہا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اس شرط پر رضامند ہوگا کہ وہ’آبنائے ہرمز کی مکمل، فوری اور محفوظ بحالیِ آمد و رفت‘ کو یقینی بنائے۔ تاہم، اس اسٹریٹجک آبی راستے سے جہازوں کی آمد و رفت اب بھی سخت متاثر ہے، اور یہ رکاوٹ اس جنگ کے آغاز (۲۸؍ فروری) کے بعد سے جاری ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی تقریباً ۲۰؍فیصد سپلائی متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے جنگ بندی کے بعد خلیجی ممالک پر میزائل حملے کی تردید کی
اسی دوران فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران مبینہ طور پر شپنگ کمپنیوں سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت کے بدلے کرپٹو کرنسی میں فیس لینے کی تیاری کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا: ’’ایسی رپورٹس ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں سے فیس لے رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اسے فوراً بند ہونا چاہئے۔ ‘‘ انہوں نے ایک اور ٹروتھ سوشل پوسٹ میں وال اسٹریٹ جرنل کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے بارے میں ’قبل از وقت فتح کا اعلان‘ نہیں کیا۔ ٹرمپ نے کہا: ’’بہت جلد تیل بغیر ایران کی مدد کے بھی بہنے لگے گا۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’’میری وجہ سے ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا‘‘ اور کہا کہ تیل کی منڈیوں میں جلد بہتری آئے گی چاہے ایران اس میں شامل ہو یا نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: پوتن کا۱۱؍ اور ۱۲؍ اپریل کو یوکرین کے ساتھ ایسٹر جنگ بندی کا اعلان
ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ادارتی بورڈ اکثر غلط اور غیر منصفانہ ہوتا ہے۔ ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران ’انتہائی خراب اور غیر مہذب طریقے سے‘ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو متاثر کر رہا ہے، اور انہوں نے واضح کیا:’یہ وہ معاہدہ نہیں ہے جو ہمارے درمیان ہے!‘