Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے جنگ بندی کے بعد خلیجی ممالک پر میزائل حملے کی تردید کی

Updated: April 10, 2026, 11:00 AM IST | Tehran

ایران نے جنگ بندی کے دوران خلیجی ممالک پر کسی بھی میزائل یا ڈرون حملے کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ اس عرصے میں کسی بھی قسم کی کارروائی ایران کی جانب سے نہیں کی گئی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایران نے جمعہ کی صبح اس بات کی تردید کی ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اس نے خلیجی ممالک پر کسی قسم کے میزائل یا ڈرون حملے کئےہیں اور خطے کے مختلف ممالک میں تنصیبات پر حملوں سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے ایک بیان میں کہا کہ جنگ بندی کے دوران ایران کی مسلح افواج نے’کسی بھی ملک کی جانب کچھ بھی لانچ نہیں کیا۔ ‘بیان میں کہا گیا: ’’اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے اس وقت تک جنگ بندی کے دوران کسی بھی ملک کی جانب کوئی لانچ نہیں کیا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: پوتن کا۱۱؍ اور ۱۲؍ اپریل کو یوکرین کے ساتھ ایسٹر جنگ بندی کا اعلان

اسلامی انقلابی گارڈ کورنے کہا کہ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو یہ اس کے بقول’’صہیونی دشمن‘‘ یا امریکہ کا کام ہو سکتا ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈ کورنے مزید کہا کہ ایران اپنی افواج کی جانب سے کئے گئے کسی بھی حملے کا عوامی طور پر اعلان کرے گا۔ اس نے زور دیا کہ ایرانی افواج کی جانب سے کیا جانے والا ہر حملہ سرکاری طور پر ظاہر کیا جائے گا، اور جو بھی کارروائی تہران کی جانب سے اعلان نہیں کی جاتی، اس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا: ’’کوئی بھی اقدام جو اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری بیانات میں شامل نہیں، اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: جنگ بندی پر خطرات کے بادل، آج اسلام آباد میں مذاکرات

امریکہ اور ایران نے منگل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ یہ اقدام ۲۸؍فروری کو واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے تہران کے خلاف شروع کئے گئے تنازع کو روکنے کیلئے ایک وسیع تر معاہدے کی جانب پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ اسلام آباد اور تہران کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان کو بھی شامل کرتی ہے، واشنگٹن اور تل ابیب نے اس کی تردید کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK