Updated: September 15, 2026, 5:02 PM IST
| Tehran
ایران نے اپنے جوہری سربراہ محمد اسلامی کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی جنرل کانفرنس میں شرکت سے روکے جانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے رکن ریاست کے حقوق کی واضح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ویانا میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں ایران کے سفیر رضا نجفی نے امریکی دباؤ کے بعد اسلامی کو اجلاس سے روکے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے آسٹریا پر بھی میزبان ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ایرانی سفیر نے مساوی نمائندگی اور شرکت کے اصولوں کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ویانا میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں ایران کے سفیر نے پیر کے روز کہا کہ ملک کے جوہری سربراہ کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی جنرل کانفرنس میں شرکت سے روکنا ایران کے رکن ریاست کی حیثیت سے حقوق کی ’’واضح خلاف ورزی‘‘ ہے۔ ویانا میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا نجفی نے کہا کہ ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی کو امریکی حکومت کے دباؤ کے بعد اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام IAEA کے آئین میں درج خودمختار مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہے، جو رکن ممالک کو رکنیت سے حاصل ہونے والے حقوق اور فوائد میں مساوی حیثیت کی ضمانت دیتا ہے۔ نجفی نے مزید کہا کہ اس اقدام سے ایران کے اس حق کو نقصان پہنچا ہے کہ وہ جنرل کانفرنس میں اپنی پسند کے نمائندے کے ذریعے شرکت کرے، جبکہ تسلیم شدہ مندوبین کو اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے حاصل ضروری مراعات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ اس کانفرنس اور ایجنسی کے دیگر اجلاسوں میں تمام ارکان کی مساوی نمائندگی اور شرکت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ رکنیت کے حقوق معاہدوں کی بنیاد پر حاصل ہوتے ہیں، انہیں متاثر نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کیا جانا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پنک نے میکلمور پر تنقید کا دفاع کیا، کہا ’اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھائی‘
ایرانی سفیر نے آسٹریا پر، بحیثیت میزبان ملک، آسٹریا اور IAEA کے درمیان ہیڈکوارٹرز معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت میزبان ملک پر لازم ہے کہ وہ رکن ممالک کے نمائندوں کو آسٹریا میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے اور تسلیم شدہ مندوبین کو فوری طور پر ویزے جاری کرے۔ نجفی نے میزبان ملک سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’فوری اصلاحی اقدامات‘‘ کرے اور اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’کانفرنس میں کسی وفد کے سربراہ کو شرکت سے روکنا میزبان ملک کی جانب سے اختیارات اور طریقۂ کار کا واضح غلط استعمال ہے۔ اس سے بین الاقوامی اداروں کے میزبان کی حیثیت سے آسٹریا کی غیر جانب دارانہ اور پیشہ ورانہ ساکھ بھی مزید متاثر ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اس ناکامی کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پنک نے میکلمور پر تنقید کا دفاع کیا، کہا ’اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھائی‘
IAEA کی جنرل کانفرنس پیر کے روز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں شروع ہوئی، جس میں ایجنسی کے رکن ممالک کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ یہ کانفرنس جمعے کو اختتام پذیر ہونے والی ہے۔