Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی حملہ میں دو صحافیوں کی موت

Updated: March 29, 2026, 11:23 AM IST | Mumbai

جنوبی لبنان کے علاقے جزین میں اسرائیلی فضائی حملے میں پریس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو صحافیوں کی موت ہوگئی جبکہ دیگر افراد بھی متاثر ہوئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جنوبی لبنان کے علاقے جزین میں اسرائیلی فضائی حملے میں پریس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو صحافیوں کی موت ہوگئی جبکہ دیگر افراد بھی متاثر ہوئے۔خبر رساں اداروں اے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے اس گاڑی کو نشانہ بنایا جس پر واضح طور پر ’پریس‘ لکھا ہوا تھا۔ حملے میں عربی چینل المیادین کی خاتون صحافی فاطمہ فتونی اور المنار ٹی وی کے سینئر رپورٹر علی شعیب شہید ہو گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس گاڑی میں دیگر افراد بھی موجود تھے جن میں فاطمہ فتونی کے بھائی بھی شامل تھے۔المیادین ٹی وی کے مطابق اسرائیلی فورس نے گاڑی کو دانستہ طور پر چار گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ چینل کا کہنا ہے کہ جب امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں تو انہیں بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک پیرامیڈک بھی جاں بحق ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے دور حکومت میں روس پر سے پابندیاں ہٹانے کا امکان نہیں

لبنان کے صدر جوزف عون نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے اور انہیں نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے فضائی حملے میں علی شعیب کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ حزب اللہ کے رضوان فورس کے انٹیلی جنس یونٹ سے وابستہ تھے اور اسرائیلی فوجی تنصیبات کے بارے میں معلومات فراہم کرتے تھے۔تاہم لبنانی حکام اور متعدد میڈیا تنظیموں نے اسرائیلی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس حملے کو صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔یاد رہے کہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی بڑی تعداد اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئی تھی۔یاد رہے کہ اس سے قبل غزہ میں اسرائیل باقاعدہ ایک میڈیا ہائوس کے دفتر پر بمباری کر چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK