اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جواب دیا اور کہا کہ ایران کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے گااور نہ ہی طاقت کے آگے جھکے گا۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 9:11 AM IST | New York
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جواب دیا اور کہا کہ ایران کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے گااور نہ ہی طاقت کے آگے جھکے گا۔
ایران کے صدر نے بدھ کو اقوام متحدہ میں جارحانہ انداز اختیار کیا اور امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مکمل جنگ کے آغاز کے بعد اپنا پہلا خطاب کیا، اور اعلان کیا کہ تہران کبھی ’’گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔‘‘ مسعود پیزشکیان نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ اس نے جنگ کے آغاز میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے ذریعے ’’دہشت گردی‘‘ کی۔ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے شہید رہنما کی تصویر بلند کی اور کہا کہ ایران کبھی بھی اس تنازعے میں جارح نہیں تھا۔
واضح رہے کہ یہ تقریر ایسے وقت میں ہوئی جب ایک دن قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو بتایا تھا کہ وہ غور کر رہے ہیں کہ ایران کو ’’مٹا‘‘ دیں یا نہیں، تاہم ٹرمپ نے تہران اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی بھی تعریف کی۔ قابل ذکر ہے کہ پیزشکیان نے رکے ہوئے تنازعے کے خاتمے کے لیے جاری ان مذاکرات کا کوئی ذکر نہیں کیا اور اپنا لہجہ سخت رکھا۔بعد ازاں پیزشکیان نے اعلان کیا، ’’ انہیں جاننا چاہیے کہ ایرانی عوام کی مزاحمت پابندیوں، بڑھتے دباؤ اور بڑھتی ہوئی غنڈہ گردی کے سامنے مزید تن کر کھڑی ہوگی۔ ہم کبھی اپنا سر نہیں جھکائیں گے اور نہ گھٹنے ٹیکیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی پر نیتن یاہو کی ویڈیو، امریکی سینیٹر کی شدید تنقید
مزید برآںایرانی لیڈر نے آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کیا، جسے ایران نے جنگ کے آغاز سے وقفے وقفے سے بند کیا ہے، جس کی وجہ سے عالمی توانائی کی قیمتیں تیزی سے بلند ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران اس آبی گزرگاہ کو ایران کے مفادات کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ کچھ لوگ اس آبی گزرگاہ تک آزادانہ رسائی حاصل کریں اور اس سے اپنے مفادات مضبوط کریں، جبکہ اسی آبی گزرگاہ کو ہم پر جارحیت مسلط کرنے کے لیے استعمال کریں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: صدر ٹرمپ کو ایران جنگ، تیل کی قیمت ،غیر مقبول پالیسیوں پر تنقید کا سامنا
واضح رہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ٹرمپ کے لیے سیاسی خطرہ ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی قیمتیں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل کانگریس پر ریپبلکن کےکنٹرول کو کمزور کرنے کا خطرہ رکھتی ہیں۔ جبکہ اس بارے میں غیر یقینی صورتحال تھی کہ پیزشکیان نیو یارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں، کیونکہ کچھ عرصے تک یہ واضح نہیں تھا کہ امریکہ انہیں ویزا دے گا یا نہیں۔ واشنگٹن نے بالآخر ان کے داخلے کی منظوری دی، تاہم ان کے وفد کے کئی اراکین کو ویزا نہیں دیا گیا۔