امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو انتخابات سے قبل ، ایران جنگ، تیل کی قیمتوں اور غیر مقبول پالیسیوں پر ریپبلکن کی تنقید کا سامنا ہے، ساتھ ہی وسط مدتی انتخابات صرف چھ ہفتے قبل جی او پی کے چند قانون سازوں اور امیدواروں نے صدر کی مخالفت شروع کر دی ۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 7:05 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو انتخابات سے قبل ، ایران جنگ، تیل کی قیمتوں اور غیر مقبول پالیسیوں پر ریپبلکن کی تنقید کا سامنا ہے، ساتھ ہی وسط مدتی انتخابات صرف چھ ہفتے قبل جی او پی کے چند قانون سازوں اور امیدواروں نے صدر کی مخالفت شروع کر دی ۔
وسط مدتی انتخابات صرف چھ ہفتے دور ہونے کے ساتھ، ریپبلکن منتخب عہدیداروں اور امیدواروں کی بڑھتی ہوئی تعداد صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے فاصلہ بڑھا رہی اور بعض صورتوں میں کھل کر اختلاف کر رہی ہے۔انتخابی مہم اور سوشل میڈیا پر انہوں نے ایران میں جنگ، پٹرول کی قیمتوں، امیگریشن انفورسمنٹ اور دیگر معاملات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک چھوٹے گروپ نے مزید آگے بڑھ کر صدر کو قابو کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔آئیووا کی رکن کانگریس ماریانیتھ ملر-میکس نے اس ماہ ایران میں ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے حق میں ووٹ دینے سے قبل کہا، ’’میں نے مارچ میں کہا تھا: مشن کو مرکوز اور محدود رہنا تھا، کیونکہ امریکی ایک اور ابدی جنگ نہیں چاہتے۔ میں ہمارے فوجیوں کو کھلی جنگ میں رکھنے کے حق میں ووٹ نہیں دوں گی، جہاں آئیووا کے لوگ پٹرول پر بہت زیادہ ادائیگی کر رہے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ ٹرمپ پر تنقیدیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ان کی منظوری کی شرح تاریخی کم سطح کے قریب ہے اور سروے بتاتے ہیں کہ ریپبلکن کو وسط مدتی انتخابات میں بھاری شکست کا سامنا ہو سکتا ہے جو ممکنہ طور پر ایوان اور سینیٹ دونوں پر ان کا کنٹرول چھین سکتی ہے۔یہ خدشہ کہ وہ ان کے انتخابی امکانات کو کمزور کر سکتے ہیں، ملک کی چند انتہائی مسابقتی نشستوں میں ریپبلکن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ انتخابی مہم میں ٹرمپ کو نہیں چاہتے۔ ایک سینئر ریپبلکن آپریٹو نے اس ماہ کے اوائل میں پولیٹیکو کو بتایا، ’’ہم نے انہیں کہہ دیا ہے کہ وہ نہیں آ سکتے۔ صاف لفظوں میں، وہ یہاں مددگار نہیں ہوں گے۔‘‘ تاہم، اگرچہ کچھ جی او پی قانون سازوں نے ٹرمپ کی مخالفت اور گریز کیا ہے ۔ جبکہ ٹرمپ نے بھی آئندہ ہفتوں میں جارحانہ انتخابی مہم چلانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بعد ازاں دی انڈیپنڈنٹ کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر وہائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے ٹرمپ کی کامیابیوں کی فہرست گنوائی۔انگل نے کہا، ’’صدر ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے لیے بلاشبہ لیڈر،بہترین پیغام رساں اور بے مثال محرک ہیں، اور وہ کانگریس میں ریپبلکن اکثریت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’صدر نے تاریخ کی سب سے بڑی محنت کش طبقے کے لیے ٹیکس کٹوتیوں پر دستخط کیے، نسخے کی دواؤں کی قیمت کم کی، سرحد بند کی، پرتشدد جرم کو تقریباً ایک صدی کی کم ترین سطح پر لایا، توانائی انقلاب برپا کیا، دس لاکھ سے زائد نجی شعبے کی نوکریاں شامل کیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی وزیر اعظم کا ظہران ممدانی پر یہودیوں کے خلاف اشتعال انگیزی کا الزام
بعد ازاں ایک معاملہ جس پر کچھ ریپبلکن نے کھل کر مخالفت کی ہے وہ ایران جنگ ہے، جو سات ماہ سے جاری ہے، جس میں کم از کم۱۸؍ فوجی ہلاک ہوئے اور ٹیکس دہندگان کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔۱۵؍ ستمبر کو ایوان نے جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کی جو ٹرمپ کو کانگریس کی اجازت کے بغیر جنگ ختم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ تیسری بار تھا کہ ایوان نے اس زیادہ تر علامتی اقدام کی منظوری دی۔لیکن ووٹ اس لیے قابل ذکر تھا کہ ریکارڈ سات ریپبلکن نے اپنی پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کے ساتھ اس کی حمایت کی۔ملر-میکس کے ساتھ، آئیووا کے رکن کانگریس زیک نن نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور سوشل میڈیا پوسٹ میں اپنے فیصلے کی وضاحت کی۔ نن نے کہا کہ ایران کو اس کے اعمال کا جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے لیکن دلیل دی کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے مقاصد واضح طور پر بیان کرنے میں ناکام رہی ہے۔نن نے لکھا، ’’آئیووا پہلے ہی تباہ کن قیمت ادا کر چکا ہے، بشمول کویت میں ایرانی ڈرون سے دو فوجیوں کی ہلاکت۔ کانگریس ان پر، ان کے اہل خانہ پر اور وردی میں ہر امریکی پر واضح مقاصد اور آئینی نگرانی کی مقروض ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا،’’مشرق وسطی میں متعدد بار تعیناتی اور۷۰۰؍ سے زائد جنگی گھنٹے پرواز کرنے کے بعد، میں ایک اور کھلی جنگ کی حمایت نہیں کروں گا۔‘‘
واضح رہے کہ جنگ نے امریکی پٹرول کی قیمتوں کو تیزی سے بلند کر دیا ہے۔ منگل کو اے اے اے کے مطابق، ایک گیلن پٹرول کی قومی اوسط۴؍ اعشاریہ ۴۷؍ ڈالر تھی، جو تنازع شروع ہونے سے دو دن پہلے۲؍ اعشاریہ ۹۸؍ ڈالر تھی۔ٹرمپ نےاسے ایران کو بے اثر کرنے کے لیے ’’چھوٹی قیمت‘‘ قرار دیا ہے۔ لیکن ریپبلکن کی ایک بڑی تعداد نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔