ایران کے پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن نے خبردار کیا کہ تہران اس وقت ”اپنی دفاعی طاقت کے عروج پر ہے۔“ کمیشن نے زور دیا کہ مذاکرات کے ذریعے ملک پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور عام ایرانیوں کی معاشی حالت میں بہتری آنی چاہئے۔
EPAPER
Updated: February 03, 2026, 5:30 PM IST | Tehran/Istanbul/Washington
ایران کے پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن نے خبردار کیا کہ تہران اس وقت ”اپنی دفاعی طاقت کے عروج پر ہے۔“ کمیشن نے زور دیا کہ مذاکرات کے ذریعے ملک پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور عام ایرانیوں کی معاشی حالت میں بہتری آنی چاہئے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیر خارجہ عراقچی کو باضابطہ طور پر ہدایت دی ہے کہ وہ وقار، دانشمندی اور قومی مفاد کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ ”منصفانہ اور مساوی مذاکرات“ کو آگے بڑھائیں۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں، پزشکیان نے کہا کہ یہ ہدایت علاقائی اتحادیوں کی درخواستوں کے بعد دی گئی ہے جو ایران پر زور دے رہے تھے کہ وہ واشنگٹن کی مذاکرات کی تجویز پر غور کرے۔ تاہم، ایرانی صدر نے واضح کیا کہ مذاکرات دھمکیوں اور غیر معقول مطالبات سے پاک، ”مناسب ماحول“ میں ہی آگے بڑھیں گے۔
اطلاعات کے مطابق، واشنگٹن اور تہران بالواسطہ یا براہِ راست بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر رواں ہفتے کے آخر میں استنبول میں عراقچی اور مشرق وسطیٰ کیلئے خصوصی امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہوسکتی ہے۔ اس متوقع ملاقات کو گزشتہ سال جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی ۱۲ روزہ جنگ کے بعد سے پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان ایک اہم ترین سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر یورپی یونین کی اسرائیل پر سخت تنقید
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ تہران امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کیلئے تیار ہے لیکن انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کیلئے واضح اصولوں اور باہمی احترام کی پیروی لازمی ہے۔ پیر کے دن اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ”ہم سفارت کاری کیلئے تیار ہیں، لیکن سفارت کاری کے بھی اپنے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم جلد ہی اس کا نتیجہ دیکھیں گے۔“ انہوں نے دلیل دی کہ ایران کے دشمن، فوجی دباؤ اور مظاہروں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اب مذاکرات کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”یہی فریقین آج سفارت کاری کی بات کر رہے ہیں، حالانکہ ایران ہمیشہ سے اس متبادل کیلئے تیار رہا ہے، بشرطیکہ باہمی احترام اور مفادات کا خیال رکھا جائے۔“
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، پورے خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ترکی، قطر اور دیگر خلیجی ممالک فعال طور پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ امریکہ اور ایران کا تصادم مشرقِ وسطیٰ کی ایک وسیع جنگ میں بدل سکتا ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ کسی بھی بات چیت کا محور صرف جوہری فائل ہونی چاہیے اور اس کے نتیجے میں پابندیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام یا علاقائی اتحادوں پر مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم، واشنگٹن ایک وسیع تر معاہدہ چاہتا ہے جو مستقل طور پر ایران کے جوہری ہتھیاروں کی طرف جانے والے راستے کو روک دے اور اس کی فوجی صلاحیتوں کو محدود کردے۔
دریں اثنا، ایران کے پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن نے خبردار کیا کہ تہران اس وقت ”اپنی دفاعی طاقت کے عروج پر ہے“ اور کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دے گا۔ کمیشن نے کہا کہ اگر مذاکرات ہوتے ہیں، تو ان کی توجہ صرف جوہری مسئلے پر ہونی چاہئے، یہ براہِ راست ہونے چاہئیں اور ان کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ پر پابندیوں کا خاتمہ اور عام ایرانیوں کی معاشی حالت میں بہتری آنی چاہئے۔
”عہدِ آزادی قریب ہے“: رضا پہلوی
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کے درمیان، اتوار کو ایران کے آنجہانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے عالمی سطح پر ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کی اپیل کی اور کہا کہ ”خوف کا دور ختم ہو چکا ہے اور آزادی کا عہد قریب ہے۔“ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں، پہلوی نے بیرونِ ملک مقیم ایرانیوں اور بین الاقوامی حامیوں پر زور دیا کہ وہ ۱۴ فروری کو ”گلوبل ڈے آف ایکشن“ (عالمی یومِ عمل) میں شرکت کریں تاکہ ان کے بقول ”شیر و سورج انقلاب“ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ شیر اور سورج کے نشان کو ایران میں اسلامی انقلاب سے پہلے کی شاہی حکومت کی واپسی کے حامی تحریک سے منسوب کیاجاتا ہے۔
پہلوی نے میونخ، لاس اینجلس اور ٹورنٹو کو احتجاج کے اہم مقامات کے طور پر نامزد کیا، جبکہ دنیا بھر میں مظاہروں کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے ۶ مطالبات رکھے جن میں ایران کی ”جبر کی مشینری“ کو ختم کرنا، حکومت کی مالی شہ رگ کاٹنا، انٹرنیٹ تک مفت رسائی کو یقینی بنانا، جبر سے منسلک ایرانی سفارت کاروں کو نکالنا، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عبوری حکومت کو تسلیم کرنا شامل ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا سخت ردِعمل
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پیر کو اس پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر ایران کے اندر بے چینی پھیلانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے حکومت مخالف مظاہرین کو ”فتنہ گر“ قرار دیا اور ان میں سے کچھ کا موازنہ داعش (آئی ایس آئی ایس) سے کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں”بغاوت کی کوشش“ ناکام ہو چکی ہے۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تہران کو دوبارہ خبردار کیا کہ ”بڑے جہاز“ ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور کہا کہ اگر جلد جوہری معاہدہ نہ ہوا تو ”بری چیزیں“ ہوسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ٹرمپ نے ایک معاہدے کے بارے میں محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ہم کوئی حل نکال سکیں، تو یہ بہت اچھا ہوگا۔“
امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلئے ایران جوہری پروگرام کے کچھ حصے بند کر سکتا ہے: رپورٹ
امریکی روزنامہ ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایران امریکہ کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے کیلئے اپنے جوہری پروگرام کے کچھ حصوں کو معطل یا بند کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے، یہ کسی بھی معاہدے کے تحت یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کے اس کے سابقہ اصرار سے ہٹ کر ایک بڑا اقدام ہے۔ ایرانی حکام نے اخبار کو بتایا کہ تہران اس تجویز پر غور کر رہا ہے جو گزشتہ سال واشنگٹن نے پیش کی تھی: یعنی جوہری توانائی پیدا کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کنسورشیم بنانا، جس میں یورینیم کی افزودگی ایران سے باہر، ممکنہ طور پر روس میں ہو گی۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان نے حال ہی میں ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا ایک پیغام پہنچایا ہے، جس میں اشارہ دیا گیا ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کے لیے تیار ہے۔