• Tue, 03 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل ایران پر امریکی حملےکا خواہاں، ایرانی میزائل پروگرام کو خطرہ کہا، ٹرمپ سخت سفارت کاری کےحامی

Updated: February 02, 2026, 7:03 PM IST | Tehran/Tel Aviv/Washington

امریکی اور اسرائیلی جرنیلوں نے پینٹاگون میں بند کمرے میں مذاکرات کیے۔ رپورٹ کے مطابق زمیر نے پیش گوئی کی کہ ایران پر امریکی حملہ فوری طور پر نہیں بلکہ دو ہفتوں سے دو ماہ کے اندر ہو سکتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان، واشنگٹن فوری فوجی کارروائی کے بجائے سخت سفارت کاری کو ترجیح دینے کا اشارہ دے رہا ہے لیکن اسرائیل اسے اکسانے کی کوشش کررہا ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو صہیونی ریاست کے ”وجود کے لیے خطرہ“ قرار دیا ہے۔  

اتوار کے دن سرکاری براڈکاسٹر ’کان‘ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے ایک سینیئر اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ”بقائے باہمی اختیار نہیں کرسکتا۔“ انہوں نے ان میزائلوں کو محدود فوجی چیلنج کے بجائے ایک بڑا اسٹریٹجک خطرہ قرار دیا۔ عہدیدار کے مطابق، جون ۲۰۲۵ء میں اسرائیل کے حملے سے پہلے ایران کے پاس تقریباً ۲۰۰۰ بیلسٹک میزائل تھے اور اس کے بعد سے اس نے اپنی میزائل صلاحیتوں کی پیداوار اور توسیع میں تیزی لائی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اب ”بیک وقت درجنوں میزائل“ داغ سکتا ہے، جس سے مستقبل کا کوئی بھی فوجی تصادم پیچیدہ ہوجائے گا۔ عہدیدار نے دلیل دی کہ اگر امریکہ یا اسرائیل کا کوئی بھی ممکنہ حملہ صرف ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بناتا ہے اور اس کے میزائل انفراسٹرکچر، ذخائر اور مینوفیکچرنگ تنصیبات کو ختم نہیں کرتا، تو وہ ناکافی ہوگا۔ اسرائیلی سیکوریٹی ذرائع نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملے میں تاخیر ہوئی ہے کیونکہ واشنگٹن خطے میں اپنی فوج کی تعیناتی مکمل کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی بندرعباس بندرگاہ پردھماکے کے بعد ایرانی نیول کمانڈر کے قتل کی افواہیں

اسرائیل ایران پر امریکی حملے کا خواہاں، لیکن ٹرمپ سخت سفارت کاری کے حامی: رپورٹ

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے حال ہی میں فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زمیر اور موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ برنیا کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی سیکوریٹی اجلاس منعقد کیا۔ یہ اجلاس زمیر کے خفیہ واشنگٹن دورے کے بعد ہوا۔ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ زمیر نے پکڑے جانے سے بچنے کے لیے نجی طیارے میں سفر کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے امریکی حکام پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کریں۔

امریکی اور اسرائیلی جرنیلوں نے پینٹاگون میں بند کمرے میں مذاکرات کیے، اس کی تفصیلات ابھی خفیہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زمیر نے پیش گوئی کی کہ ایران پر امریکی حملہ فوری طور پر نہیں بلکہ دو ہفتوں سے دو ماہ کے اندر ہو سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو حل کیے بغیر اس کے ساتھ جوہری معاہدہ کرسکتے ہیں۔

اگرچہ اسرائیل براہِ راست امریکی حملے کے حق میں نظر آتا ہے، لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فوجی دباؤ کے ذریعے ”سخت مذاکرات“ کو ترجیح دینے کا اشارہ دیا ہے۔ اسرائیلی مالیاتی تجزیہ کاروں کا تخمینہ ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اسرائیل کو ۱۰ ارب ڈالر تک مہنگی پڑ سکتی ہے، جس نے اس کے سیکوریٹی اسٹیبلشمنٹ میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کھوکھلی دھمکی نہیں دیتے: اسرائیل میں امریکی سفیر

ایران نے یورپی افواج کو ’دہشت گرد گروپ‘ قرار دیا؛ خامنہ ای نے مظاہروں کو بغاوت کی کوشش قرار دیا

یورپی یونین کی جانب سے ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے جواب میں، ایرانی پارلیمنٹ نے ملکی قانون کے تحت یورپی افواج کو ”دہشت گرد گروپ“ قرار دے دیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے یورپ پر امریکی پالیسی کی اندھی پیروی کرنے اور اپنے مفادات کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔

جرمنی نے ایرانی اقدام کو ”بے بنیاد“ اور ”پروپیگنڈے“ پر مبنی انتقامی کارروائی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ جرمن وزیرِ خارجہ جوہان واڈیفول نے واضح کیا کہ تہران کی جوابی کارروائی یورپی موقف کو تبدیل نہیں کرے گی۔

دریں اثنا، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ”بغاوت کی کوشش“ قرار دیا اور کہا کہ مظاہرین نے پولیس اسٹیشنوں، سرکاری عمارتوں، مساجد اور آئی آر جی سی کے مراکز پر حملے کیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران نے اس تحریک کو کامیابی سے کچل دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی بے چینی دوبارہ پیدا ہوسکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے سبب امسال امریکہ کو پہلی مرتبہ آبادی میں کمی کا خطرہ

اگر امریکہ پر اعتماد بحال ہو جائے تو جوہری معاہدہ ممکن ہے: ایران

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اگر واشنگٹن اعتماد بحال کرے تو امریکہ کے ساتھ نئے جوہری معاہدے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران اس وقت امریکہ پر بھروسہ نہیں کرتا لیکن علاقائی ثالث غیر رسمی رابطوں میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کی توجہ فارمیٹ کے بجائے مواد پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات کی دوبارہ مخالفت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کی وجہ سے کوئی بھی جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔ اگرچہ ایران عسکری طور پر تیار ہے، لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ تہران تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹرمپ کا جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات پر آمادگی کا اشارہ

صدر ٹرمپ کئی بار دہرا چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی امید رکھتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ایرانی پانیوں کے قریب طاقتور بحری بیڑے تعینات کر رہے ہیں۔ مار-اے-لاگو میں اپنی رہائش گاہ سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ”ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔“ تاہم انہوں نے فوجی منصوبوں کی تفصیل بتانے سے گریز کیا۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو کم کرے اور جوہری ہتھیاروں کی جانب جانے والے کسی بھی راستے کو ترک کر دے، اس کے بدلے میں ممکنہ پابندیوں میں نرمی کا اشارہ بھی دیا ہے۔ تہران نے فوجی خطرے کے تحت کیے جانے والے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے، لیکن ایرانی حکام نے بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے تقریباً ۲؍سال کے بعد غزہ رفح کراسنگ کوتجرباتی طور پر دوبارہ کھول دیا

قطری امیر اور فرانسیسی صدر کے درمیان ایران اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور بڑھتے ہوئے امریکہ-ایران تناؤ، علاقائی سلامتی اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں لیڈران نے مشرق وسطیٰ میں کسی بھی وسیع علاقائی جنگ کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے غزہ اور لبنان کی صورتحال پر بھی بات کی، جس میں جنگ بندی کی جاری خلاف ورزیاں اور غزہ کا انسانی بحران شامل ہے، جہاں اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک مبینہ طور پر ۷۱ ہزار ۷۰۰ سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ قطر اور فرانس نے سفارتی حل اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK